.

شامی باغیوں نے بشار اور ان کے والد کی تصاویر تاراج کر دیں

تفتناز ہوائی اڈے پر جیش الحر کا کنڑول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے شمالی شہر تفتنار کے سب سے بڑے فوجی ہوائی اڈے کا کنڑول جیش الحر نے سنبھال لیا ہے۔ کنڑول سنبھالنے کے بعد جیش الحر کے جنگجوؤں نے حافظ الاسد اور بشار الاسد کی تصویریں اتار پھینکیں اور انہیں اپنے پیروں تلے روند ڈالا گیا۔ ائرپورٹ کے مختلف حصوں میں حافظ الاسد اور بشار الاسد کی تصاویر بڑے پیمانے پر آویزاں تھیں۔

لندن میں قائم انسانی حقوق آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ تفتناز ہوائی اڈے کا کںڑول جیش الحر اور سرکاری فوجیوں کے درمیان کئی روزہ لڑائی کے بعد حاصل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ تفتناز ہوائی اڈا سرکاری فوج کے کنڑول سے نکلنے والا سب سے بڑا فوجی ہوائی اڈا ہے۔

آبزرویٹری کے بیان کے مطابق تفتناز ہوائی اڈے پر حملے میں النصرہ فرنٹ، احرار الشام بریگیڈ اور متعدد دوسرے عسکری گروپوں نے شرکت کی۔ کئی دن کی کامیابی لڑائی کے بعد تفتناز ہوائی اڈا باغیوں کے قبضے میں چلا گیا۔

تفتناز ہوائی اڈا ادلب کے نواح میں واقع شمالی شام کا ایک اہم ائرپورٹ ہے۔ شامی فوج اسے مختلف شہروں پر بمباری کے لانچنگ بیس کے طور پر استعمال کرتی تھی۔ یہیں لڑاکا جہازوں میں بم لوڈ کئے جاتے تھے۔ اس ہوائی اڈے پر چار سو افسر، ٹیکنیشنز اور دیگر فوجی خدمات سرانجام دیتے تھے۔ یہاں پر تیس لڑاکا جہازوں کے علاوہ دیگر فوجی سامان حرب و ضرب موجود تھا۔