.

میں یاسر عرفات کا قتل نہیں چاہتا تھا شمعون پیریز کا اعتراف

اسرائیل کی مسلم دنیا دوستی مسئلہ فلسطین کے حل میں مضمر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی وفات کے آٹھ برس بعد اس بات کا پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ وہ یاسر عرفات کا قتل نہیں چاہتے تھے۔

عبرانی ریڈیو نے امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کو دیئے گئے شمعون پیریز کے انٹرویو کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی صدر تمام تر مشکلات کے باوجود یاسر عرفات سے بات کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ اسرائیل یاسر عرفات کے قتل کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔ شمعون پیریز نے سن 1988ء سے لیکر ابتک قتل کی جانے والی فلسطینی قیادت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم نے غزہ پر حالیہ حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ یا فوجی کارروائی نہیں بلکہ حماس کے لئے ایک سبق تھا۔ "اسرائیل نے عام شہریوں کو غزہ میں نشانہ نہ بنانے کی مقدور بھر کوشش کی حالانکہ حماس کے جنگجوؤں اور نہتے شہریوں میں تفریق کرنا مشکل امر تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کے علی الرغم وہ فلسطینی صدر محمود عباس کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے اس رائے کا دوٹوک اظہار نہیں کیا۔

شمعون پیریز نے کہا کہ میں اس بات پر اصرار درست تسلیم نہیں کرتا کہ ابو مازن اچھے مذاکراتی فریق نہیں۔۔۔میں انہیں اچھا مذاکراتی شریک سمجھتا ہوں۔ تاہم ہماری فوج ہی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مجھے فلسطینی فورسسز سے تعاون کی حدود بتاتی ہے۔

غرب اردن میں یہودی آبادکاری سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبادکار فلسطینی ریاست کی تشکیل کی راہ میں رکاوٹ نہیں کیونکہ وہ علاقے کے صرف دو فیصد حصے پر آباد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی میں صرف فلسطینیوں کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ یہاں ڈیڑھ ارب مسلمان بھی رہتے ہیں۔ مسئلہ فلسطین کی وجہ سے ان سب سے ہمارے تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ انتہا پسند مسلمانوں کو اپنی کارروائیوں کا جواز مل جاتا ہے۔ شمعون پیریز نے کہا کہ یقیناً صورتحال میں ہمیں رعاتیں دینا ہوں گی۔ ان رعایتوں کی راہ میں اسرائیلی وزیر اعظم نہیں بلکہ ان کا سیاسی اتحاد ہے۔

"میں نہیں سمجھتا کہ فلسطینیوں کے ساتھ امن سے تمام مشکلات حل ہو جائیں گی۔ امن کا قیام ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اسرائیل کے نوے سالہ صدر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مشرق وسطی میں قیام امن ان کی زندگی میں حقیقت کا روپ دھارے گا۔ اگر میں دس برس اور زندہ رہ گیا تو میں امن ہوتا ضرور دیکھوں گا۔ انہوں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کا نام لئے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام اگر اپنے حکمرانوں سے قیام امن کے بارے میں سن لیں تو یقیناً اور اس بات کو درست تسلیم کر لیں گے۔