.

حسنی مبارک کی معافی کے لیےکوئی ڈیل نہیں ہوئی وزیر انصاف

سابق صدر کی رہائی کا فیصلہ اٹارنی جنرل ہی کر سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے وزیر انصاف احمد مکی کا کہنا ہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کو خرابیٔ صحت کی بنا پر رہا کرنے پر کوئی غور نہیں کیا جا رہا ہے اور اس کا فیصلہ ملک کے اٹارنی جنرل ہی کر سکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بات العربیہ ٹی وی کے ساتھ خصوصی انٹَرویو میں کہی ہے۔ احمد مکی نے کہا کہ قانونی ماہرین حسنی مبارک کی قید اور نظربندی کے درمیانی عرصہ سے متعلق ایک مسودے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر حسنی مبارک کے کیس کا جائزہ لینے والی عدالت اس تمام عرصہ کو قید قرار دے دیتی ہے تو اس طرح ان کی چوبیس ماہ قید کی مدت اپریل میں مکمل ہو گی اور اس کے بعد انھیں خرابیٔ صحت کی بنا پر رہا کیا جا سکتا ہے۔

احمد مکی نے کہا کہ ایک مسلمان کی حیثیت میں قرآن کی رو سے کسی کو معاف کر دینا ایک اعلیٰ صفت ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ معافی دینے کا فیصلہ کرنا ان لوگوں کا کام ہے جن کے عزیز واقارب حسنی مبارک کے حکم پر مارے گئے تھے۔

مصر کے وزیرانصاف نے مفرورکاروباری شخصیت حسین سالم کے حوالے سے کہا کہ ان کی بہت سی دولت مصر میں حکومت کے ہاتھوں میں ہے لیکن وہ اپنے بہت سے اثاثے ملک سے باہر لے گئے تھے۔حسین سالم کو حسنی مبارک کے ساتھ اسرائیل کو ارزاں نرخون پر گیس فروخت کرنے کے معاہدے میں مجرم قراردیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اگر حسین سالم بیرون ملک پڑی اپنی بہت سی دولت واپس لے آتے ہیں تو انھیں معاف کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے نہیں ہیں اور ہر جرم کی اپنی ایک سزا ہے۔

اخوان المسلمون کی قانونی حیثیت کے والے سے وزیرانصاف کا کہنا تھا کہ قانون کا تمام پر اطلاق کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت شہری تنظیم سے متعلق قوانین پر نظرثانی کے لیے کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ قاہرہ کی ایک عدالت نے حسنی مبارک کو 2 جون 2012ءکو مظاہرین کی ہلاکتوں کے اس مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھیں۔انھوں نے اپنے خلاف ساڑھے آٹھ سو مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے قریبی مشیروں نے انھیں صورت حال کی سنگینی سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا تھا اور اندھیرے میں رکھا تھا۔ انھوں نے اپنے اوپر لگائے گئے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا تھا کہ انھوں نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا حکم دیا تھا۔

حسنی مبارک اس وقت قاہرہ کے فوجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انھیں دسمبر کے آخر میں طرہ جیل کے کلینک سے ان کی حالت بگڑنے کے بعد فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔ سابق مطلق العنان صدر کے بارے میں حال ہی میں ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران مظاہروں کو براہ راست ٹی وی پر ملاحظہ کیا کرتے تھے اور ان کے اس انکار میں کوئی صداقت نہیں تھی کہ وہ اپنے خلاف تحریک کی شدت سے بے خبر تھے۔