.

غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان زخمی

جنگ بندی معاہدے کے باوجود صہیونی فوج کی جارحیت جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کی پٹی میں فائرنگ کر کے ایک فلسطینی نوجوان کو زخمی کردیا ہے۔

فلسطین کے میڈیکل ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے جمعہ کو غزہ کی پٹی کے قصبے بیت لاھیا میں سترہ سالہ لڑکے کو ٹانگ میں گولی مار کر زخمی کیا ہے اور اسے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے فوری طور پر اپنی اس جارحیت کے حوالے سےکوئی بیان جاری نہیں کیا۔اسرائیلی فوجیوں نے گذشتہ سوموار کو بھی بیت لاھیا کے نواح میں فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں اکیس سالہ فلسطینی کاشت کار شہید ہوگیا تھا۔

21نومبر کو غزہ کی حکمران فلسطینی جماعت حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے سمجھوتے کے بعد سے صہیونی فوج کی کارروائیوں میں چار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

اسرائیل کی غزہ پر آٹھ روزہ جارحیت کے بعد مصر کی ثالثی میں طے پائے اس معاہدے کے تحت صہیونی فوج نے غزہ کے سرحدی علاقے میں فلسطینیوں کو تین سو گز تک آنے کی اجازت دی تھی جبکہ اس سے پہلے اس نے فلسطینیوں کے اس علاقے کو ان کے لیے ''نوگو زون''قرار دے رکھا تھا۔

صہیونی فوج نے فلسطینی کاشت کاروں کو غزہ اور اسرائیل کے درمیان سرحدی لکیر کی جانب علاقے میں ایک سو گز تک اندر آنے کی اجازت دی تھی لیکن اس معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوجی محض شبے یا خوف کی بنا پر سرحدی علاقے کی جانب آنے والے فلسطینیوں کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔