.

نیتن یاہو کا دوبارہ منتخب ہونے پر یہودی بستیاں مسمار نہ کرنے کا وعدہ

مغربی کنارے میں یہود کے لیے تعمیرات میں توسیع پر اظہار تفاخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے ووٹروں سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ آیندہ ہفتے ہونے والے عام انتخابات میں دوبارہ منتخب ہو گئے تو وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیر شدہ یہودی بستیوں کو مسمار نہیں کریں گے۔

انتہا پسند نیتن یاہو نے یہ بات اسرائیلی روزنامے معاریف کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ ''کیا وہ یہ وعدہ کر سکتے ہیں کہ آیندہ چار سال کے دوران کوئی یہودی بستی مسمار نہیں کی جائے گی؟ اس کا جواب انھوں نے 'ہاں' میں دیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ''وہ دن لد چکے ہیں جب بلڈوزروں کے ذریعے یہودیوں کو بے گھر کیا جاتا تھا۔ اب یہ دن نہیں آئیں گے ہمارا ریکارڈ یہ بات ثابت کر چکا ہے''۔

انتہا پسند یہودی لیڈر نے فخریہ انداز میں کہا کہ ہم نے یہودی آبادکاروں کی بستی کو مسمار نہیں کیا بلکہ ان میں توسیع ہی کی ہے اور ان کی حکومت نے مغربی کنارے میں ایک یہودی بستی میں پہلی مرتبہ ایک یونیورسٹی بھی قائم کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''کوئی بھی مجھے اسرائیلی سرزمین کے لیے محبت یا صہیونیت اور یہودی بستیوں کے لیے کمٹمنٹ کے حوالے سے کوئی سبق نہیں دے سکتا''۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے فلسطینیوں کی سر زمین پر قبضے پر فخر کا اظہار کیا ہے اور ا س طرح انھوں نے آیندہ منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل یہودی آبادکاروں کے دل اور ووٹ جیتنے کی کوشش کی ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کی قیادت میں اتحاد کی اس کی حریف جماعتوں کے مقابلے میں پوزیشن بہتر ہے۔جمعہ کو شائع ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کی جماعت لیکوڈ اور سابق انتہا پسند وزیر خارجہ ایویگڈور لائبرمین کی جماعت یسرائیل بیتنو پر مشتمل اتحاد پارلیمان کی ایک سو بیس نشستوں میں سے بتیس سے پینتیس نشستیں جیت جائے گا۔ تحلیل ہونے والی پارلیمان میں ان کی بیالیس نشستیں تھیں۔

دوسری جماعتوں جیوش ہوم الکنیست کی تیرہ ،چودہ اور آرتھو ڈکس یہود کی جماعت شاس گیارہ ،بارہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائےگی۔بائیں بازو کی جماعت لیبر کی سولہ ،سترہ نشستوں پر کامیابی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یش عطید اور حاتنوح بالترتیب بارہ ،تیرہ اور سات یا آٹھ نشستیں حاصل کرلیں گی۔گیارہ جنوری کو شائع شدہ ایک پول کے مطابق ہر چار میں سے ایک ووٹر نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ وہ کس جماعت کی حمایت کرے گا۔