.

شامی اپوزیشن ملک میں تشدد کی ذمہ دار ہے ولید المعلم

"ڈالروں کے عوض ملک تباہ نہ کیا جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی وزیر خارجہ ولید المعلم کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کی اقتدار سے علاحدگی کا مطالبہ کرنے والے ملک میں پرتشدد کارروائیوں کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے حکومت مخالفین کو صدر بشار الاسد کے اوائل جنوری میں پیش کردہ منصوبے کی روشنی میں مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔

ولید المعلم نے بتایا کہ شام سے متعلق امریکا اور روس جنیوا ہونے والی ملاقات بے نتیجہ رہی کیونکہ مبہم عبوری دور سے متعلق دونوں ملکوں کی مشترکہ سوچ ایک نہیں۔ بہ قول ولید المعلم امریکا، شام میں رجیم کی تبدیلی کو صدر کی حاکمیت کے خاتمے سے مشروط کرتا ہے جبکہ یہ مطالبہ کرتے ہوئے اس امر کو فراموش کر دیتے ہیں کہ جہاز ڈوبنے لگے تو کپتان سب سے پہلے چھلانگ نہیں لگایا۔

امریکا اور شامیوں سمیت شازش کا تانہ بانہ تیار کرنے والے دیگر حلقے اس شرط پر بہت زور دیتے ہیں۔ یہ حلقے چاہتے ہیں کہ تشدد اور شام کی تباہی جاری رہے اور وہ اسے رکوائے بغیر اپنی شازش کا جال بنتے رہیں۔

شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلے کا حل صدر بشار الاسد کے چھے جنوری کو پیش کردہ سیاسی پروگرام کی روشنی میں تلاش کرنا ہو گا۔ اس پروگرام کے تحت شام کی موجودہ حکومت قومی مذاکرات کی دعوت دے۔ مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آنے والے قومی چارٹر کی عوام سے ریفرینڈم کے ذریعے منظوری لی جائے۔

دوسرے مرحلے پر ولید المعلم کے بہ قول عبوری حکومت تشکیل دی جائے جو پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کرے۔ انتخاب کے بعد نئے دستور کی روشنی میں حکومت تشکیل دی جائے۔

شامی رہنما نے بتایا کہ صدر بشار الاسد کے پیش کردہ پروگرام کا مقصد بذریعہ پیراشوٹ ملک پر مسلط کئے جانے والے فیصلوں کے سامنے بند باندھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت قومی کانفرنس سے پہلے 'تیاری کے مرحلے' کی بھی پابند ہے۔ اس مرحلے کی تکمیل دو سے تین ماہ تک ہو سکے گی۔

شامی صدر کی ہدایت کے مطابق بحران کے حل کا مکمل تلاش کرنے والی کمیٹیوں نے تمام متعلقہ افراد سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قومی کانفرنس میں شرکت کی خاطر بیرون ملک سے آنے والوں کو ہر طرح کے تحفظ کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ یہ لوگ کانفرنس کے بعد بخوشی واپس جانے کے بھی مجاز ہوں گے۔

انہوں نے اصلاح کے لئے مسلح جدوجہد میں مصروف شامی گروپوں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اصلاح احوال آپ کی شرکت سے ممکن ہے۔ میری یہ پیشکش نوجواںوں کے لئے ہے۔ جو لوگ پیسے کی خاطر مورچہ بند ہیں، وہ اللہ سے ڈریں کیونکہ ایسے لوگ ڈالروں کی خاطر ملک تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جن لوگوں نے بزعم خود عقیدے کے تحفظ کی خاطر اسلحہ اٹھا رکھا ہے، وہ میری بات غور سے سن لیں۔ ان کے لئے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں۔ ان کا اشارہ مشدد اسلامی گروہوں کی جانب تھا۔