.

اسرائیل میں آباد عرب اجتماعی طور پر ووٹ ڈالیں عرب لیگ

کنیسٹ میں نمائندگی کے لیے انتخابات میں بھرپور حصہ لیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عرب لیگ نے اسرائیل میں رہنے والے عربوں پر زوردیا ہے کہ وہ منگل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بھرپور حصہ لیں تاکہ اسرائیلی پارلیمان [کنیسٹ] میں ان کی موثر نمائندگی ہو سکے۔

عرب لیگ نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں عربوں پر زوردیا ہے کہ ''وہ اجتماعی طور پر انتخابی عمل میں حصہ لیں تاکہ ان کی پارلیمان میں نمائندگی ہوسکے اور وہ نسل پرستی پر مبنی قوانین کی وہ مخالفت کرسکیں''۔

قاہرہ میں قائم عرب لیگ نے موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کے اتحاد کی ممکنہ کامیابی کے حوالے سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اتحاد فلسطینیوں کے ساتھ امن کا خواہاں نہیں ہے۔

بیان میں بنجمن نیتن یاہو کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیون کی سرزمین پرقائم یہودی بستیوں کو ختم نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ عرب اسرائیلی وہ فلسطینی یا ان کی اولاد ہے جو1948ء میں اسرائیل کے قیام اور یہودیوں کے فلسطینیوں کی سر زمین پر قبضے کے بعد اپنے آباء اجداد کے علاقوں ہی میں رہ گئے تھے اور انھوں نے دوسرے لاکھوں فلسطینیوں کی طرح پڑوسی ممالک میں مہاجرت کی زندگی اختیار نہیں کی تھی بلکہ وہ تب سے وہیں رہتے چلے آرہے ہیں اور وہ اس وقت اسرائیل کی کل آبادی کا پانچواں حصہ ہیں۔

عرب لیگ نے ان عربوں پر زور دیا ہےکہ ''وہ یک جان ہو کر ووٹ ڈالیں اور ان کی الکنیست میں آبادی کے تناسب سے نمائندگی ہونی چاہیے۔ عرب ارکان منتخب ہونے کی صورت میں پارلیمان میں منظور کیے جانے والے ان تمام قوانین کی مخالفت کریں جو بین الاقوامی قانون اور جمہوریت کے منافی ہوں''۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اگلے روز اپنے ووٹروں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ عام انتخابات میں دوبارہ منتخب ہو گئے تو وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیر شدہ یہودی بستیوں کو مسمار نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ''وہ دن لد چکے جب بلڈوزروں کے ذریعے یہودیوں کو بے گھر کیا جاتا تھا۔اب یہ دن دوبارہ نہیں آئیں گے، ہمارا ریکارڈ یہ بات ثابت کر چکا ہے''۔