.

بشار الاسد ایران کے لئے ریڈ لائن ہے علی اکبر ولایتی

شامی اپوزیشن کا عبوری حکومت پر غور سے متعلق اجلاس ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی حزب اختلاف کے لیڈروں نے سوموار کو ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والا اپنا اجلاس ملتوی کر دیا ہے۔ اس اجلاس میں خانہ جنگی کا شکار ملک میں عبوری حکومت کے قیام سے متعلق امور پر غور کیا جانا تھا۔

شامی حزب اختلاف کے مختلف دھڑوں کے لیڈروں نے ہفتے کے روز اپنے اجلاس میں عبوری حکومت سے متعلق مختلف پہلوؤں پر غور کیا تھا لیکن وہ اس کی ہئیت ترکیبی پر اتفاق رائے میں ناکام رہے تھے۔ شام کے سابق منحرف وزیر اعظم ریاض حجاب کا نام نئی حکومت کے سربراہ کے طور پر تجویز کیا گیا تھا۔

شامی قومی اتحاد کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ستر ارکان پر مشتمل گروپ نے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو آیندہ دس روز میں نئی حکومت کے قیام سے متعلق اپنی تجاویز پیش کرے گی۔ اس ضمن میں یہ کمیٹی حزب اختلاف اور جیش الحر کے کے نمائندوں علاوہ دوست ممالک سے بھی بات چیت کرے گی۔

ذرائع کے مطابق شامی قومی اتحاد کے سربراہ معاذ الخطیب گذشتہ روز اچانک اجلاس سے اٹھ کر قطر چلے گئے جہاں وہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں عبوری حکومت کے لیے اعلان کردہ مالی امداد کے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بات چیت کریں گے۔

ادھر شام میں تشدد میں شدت آ گئی ہے اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان مختلف شہروں میں جھڑپوں میں روزانہ ایک سو سے زیادہ افراد مارے جا رہے ہیں۔ اتوار کی رات نامعلوم مسلح افراد نے دارالحکومت دمشق میں برقی رو کی مرکزی لائن کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں سوموار کو بھی برقی رو معطل تھی۔شام کے وزیر بجلی نے ایک بیان میں دہشت گرد گروپوں کو اس دھماکے کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

داریں اثناء صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبات کے تناظر میں ایران نے ایسے مطالبات کرنے والوں کے خلاف ماضی کے برعکس سخت لہجہ اختیار کیا ہے۔ ایران کے ممکنہ صدارتی امیدوار علی اکبر ولایتی نے ایک بیان میں کہا ہے بشار الاسد کی ذات ایران کے لئے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی جانب پیش قدمی کسی طور برداشت نہیں کی جائے گی۔