.

شامی فوج کے مظالم سے بچنے کے لئے شہریوں کی اردن ہجرت

رات کی تاریکی میں زیادہ شامی اردنی سرحد پار کرتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اپنے ملک میں جاری پرتشدد کارروائیوں سے بچنے کی خاطر شام سے ہجرت کرنے والے پناہ گزین ملک چھوڑ کر بھی محفوظ نہیں رہے۔

اس امر کا انکشاف العربیہ کی خصوصی وقائع نگار ریما مکتبی کی حال ہی میں شام سے بھیجی جانے والی فوٹیج میں ہوا ہے۔ بشار الاسد فوج کے اہلکار شام سے اردن ہجرت کرنے والے ہم وطنوں کو اردن کی سرحد پر گولیوں سے بھون رہے ہیں۔

ریما مکتبی کے مطابق شامی مہاجرین ملک سے فرار کے غیر قانونی طریقے اختیار کر کے جائے امان کی تلاش میں سرگرداں ہیں لیکن بشار الاسد کی انسانیت سے عاری فوج وہاں بھی ان کا پیچھا کرنے پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شامی بحران کے آغاز سے ابتک تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد مختلف سرحدی راستوں سے ہوتے ہوئے اردن پہنچے ہیں۔

سخت سردی اور برف پوش گھاٹیوں میں دشوار گزار راستوں پر سفر کرتے ہوئے اردن پہنچنے والے خوش قسمت مہاجرین کے حوالے سے ریما مکتبی نے بتایا کہ بشار رجیم مہاجرین کے چھوٹے چھوٹے قافلوں پر اس وقت فائر کھول دیتے ہیں کہ جب وہ اردنی سرحد کے بالکل قریب ہوتے ہیں۔

بہت سے مہاجر اپنی نئی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی شامی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

اردنی فوج کے اہلکاروں نے العربیہ کو بتایا کہ شامی فوج سرحد کے ساتھ پھیل چکی ہے اور مہاجرین کے قافلوں کو ایک ہی آن میں ختم کرنے کے لئے بسا اوقات شامی فضائیہ کو ان قافلوں پر بمباری کے لئے استعمال کرتی ہے.