.

شامی فوج کے صوبہ دمشق میں فضائی حملے، گولہ باری، 178 ہلاک

ترکی کی سرحد کے نزدیک شامی کردوں اور باغیوں میں جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں صدر بشار الاسد کی وفادار فوج نے باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں اور ٹینکوں سے گولہ باری کی ہے جبکہ فلسطینی مہاجرین کے کیمپ میں شامی صدر کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق سرکاری فوج کے جنگی طیاروں نے دمشق سے شمال مشرق میں واقع قصبے الدوما میں جیش الحر کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔اس قصبے پر شامی فوج گذشتہ کئی ہفتوں سے فضائی حملے کر رہی ہے۔

شامی فوج نے باغیوں کی مزاحمت کو کچلنے کے لیے دمشق کے نزدیک واقع قصبوں داریا، الشام، یلدا اور بیت ساحم میں باغیوں کے ٹھکانوں پر ٹینکوں سے گولہ باری کی ہے۔شامی حکومت کے حامی ایک روزنامے الوطن نے پہلی مرتبہ صوبہ دمشق میں سرکاری فوج کے فضائی حملوں اور توپ خانے سے گولہ باری کا اعتراف کیا ہے۔

اخبار نے یہ بھی بتایا ہے کہ فلسطینی مہاجرین کے کیمپ یرموک میں صدر بشارالاسد کی حامی ایک فلسطینی تنظیم پاپولر کمیٹیز اور مسلح جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ ان کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے کیمپ میں بیکریاں بند ہو گئی ہیں اور بریڈ کی قلت کی پیدا ہو گئی ہے۔

آبزرویٹری کی ایک اور اطلاع کے مطابق ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع کرد اکثریتی شہر راس العین میں گذشتہ چھے روز سے مقامی کردوں اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور ان میں چھپن جنگجو مارے گئے ہیں۔

شام میں منگل کو تشدد کے یہ واقعات ملک کے مختلف علاقوں بم دھماکوں اور جھڑپوں میں ایک سو اٹھہتر افراد کی ہلاکت کے ایک روز بعد رونما ہوئے ہیں۔ سوموار کو وسطی صوبے حماہ کے قصبے سلامیہ میں ایک خودکش بم دھماکے میں حکومت نواز ملیشیا کے اکتیس ارکان سمیت بیالیس افراد ہلاک ہو گئے تھَے۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔