.

عراق بم دھماکوں کا سلسلہ جاری،17 افراد ہلاک، 50 زخمی

فوجی چوکی اور اڈے پر کار بم حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے دارالحکومت بغداد اور اس کے نواحی علاقوں میں تین بم دھماکوں میں سترہ افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

عراق کے سکیورٹی حکام کے مطابق منگل کو بغداد کے جنوب میں واقع قصبے محمودیہ میں فوج کے ایک چیک پوائنٹ کو خودکش کار بم حملے میں نشانہ بنایا گیا۔اس بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے۔

دارالحکومت کے شمال میں واقع قصبے تاجی میں دوسرا کار بم دھماکا ہوا اور اس میں بھی عراقی فوج کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک اور بیس زخمی ہو گئے۔

بغداد کے شمالی علاقے شعلہ میں ایک مارکیٹ کے نزدیک کاربم دھماکے میں پانچ افراد مارے گئے اور بارہ زخمی ہوگئے۔فوری طور پر کسی گروپ نے عراق میں ان بم دھماکوں اور خودکش کار بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

بغداد اور اس کے نواحی علاقوں میں تشدد کے یہ واقعات چار روز کے بعد رونما ہوئے ہیں۔ اس سے قبل پندرہ سے سترہ جنوری کو عراق کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں میں اٹھاسی افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ عراق میں یہ بم دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب سنی اکثریتی صوبے الانبار میں وزیر اعظم نوری المالکی کے خلاف دسمبر کے آخر سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔