.

عرب مالیاتی اداروں کے سرمایے میں 50 اضافہ کیا جائے سعودی عرب

ریاض سمٹ سے افتتاحی خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلیمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ خطے کے موجودہ حالات میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں مشترکہ عرب کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ اس کے مثبت اثرات عرب عوام کے زندگیوں پر محسوس کئے جا سکیں اور وہ باعزت اور برتر زندگی گذار سکیں۔

شہزادہ سلیمان نے عرب مالیاتی اداروں کے سرمائے میں کم سے کم پچاس فیصد اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ عرب ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ پوری کی جا سکے۔ نیز کم پیدوار والے عرب ملکوں کی امداد کی جا سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سعودی عرب ان منصوبوں میں اپنے حصے کا سرمایہ ادا کرنے کو تیار ہے تاکہ یہ مالیاتی ادارے اپنے کاموں میں وسعت اور قومی زندگی میں اپنی شراکت میں بہتری لا سکیں۔

شہزادہ سلیمان سے قبل مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہ امت کے اہم مراحل میں اس سمٹ کا انعقاد اہم پیش رفت ہے۔ "ہم عرب بھائیوں کے ساتھ ملکر اپ عوام کی امنگوں کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم عرب دنیا سے غربت، جہالت اور بیماریوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔"

صدر مرسی نے ریاض سمٹ سے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ وہ شمالی مالی میں فوجی مداخلت کے خلاف ہیں۔ یہ ساری صورتحال خطے میں تنازعات کو ہوا دینے کا باعث بن رہی ہے۔ ایسے خونریز تنازعات کے بعد عرب دنیا افریقہ میں اپنی اسٹرٹیجک رسائی کھو سکتی ہے۔ صورتحال کا تقاضہ ہے کہ موجودہ بحران کے حوالے سے ہم الجزائر کی حمایت کریں۔

ڈاکٹر محمد مرسی نے پائیدار عرب ترقیاتی پروگرام شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی سے عرب دینا کی شناخت گہری کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقصد عرب ملکوں کے درمیان باہمی کوارڈینشن کے ذریعے ممکن ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پیش آئند عرب ترقیاتی سمٹ میں اس ایشو کو منظم انداز میں پیش کیا جائے۔

محمد مرسی نے کہا کہ اقتصادی جہتوں تک رسائی کی خاطر عرب اکنامک سسٹم کی تکمیل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ عرب کوششیں اس نہج پر کامیابی حاصل نہیں کر سکیں کہ جو دوسری علاقائی تنظیموں کے حصوں میں آئیں۔

مصری صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک عرب ملکوں کے استحکام میں یقین رکھتا ہے۔ وہ کسی بھی خطرے سے بچاؤ میں ان کے ساتھ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مصر کو اپنی معیشت میں عرب بھائیوں کی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے، جس کے بغیر ملک میں ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔

ریاض میں ہونے والے تیسرے عرب ترقیاتی سمٹ میں تقریبا 500 عرب شخصیات اور تنظیموں نے شرکت کی۔