.

اردنی عوام 17 پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈال ر ہے ہیں

اخوان المسلمون کا بائیکاٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اردن میں قانون ساز مجلس کے انتخاب کی ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت مخالف اسلامی تحریک نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔ ان انتخابات کی 7020 اندرون ملک جبکہ 512 بین الاقوامی مبصر نگرانی کر رہے ہیں۔

ووٹنگ کا عمل مقامی وقت صبح سات بجے شروع ہوا جو آئندہ بارہ گھنٹے تک جاری رہے گی۔ اس میں دو ملین 272 ہزار اور 182 رجسٹرڈ ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ملک میں ووٹ ڈالنے کے اہل افراد کا ستر فیصد ہے۔ اردن کی کل آبادی تقریبا سات ملین ہے، جس میں تقریبا تین ملین افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں لیکن تمام افراد نے ووٹ رجسٹرد نہیں کرائے۔

مجلس قانون ساز کے لئے اردن میں ہونے والے انتخابات میں 1425 امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں، ان میں 191 خواتین بھی شامل ہیں۔ اردن کی 17 پارلیمنٹ کے انتخاب میں تقریباً 139 سابق ارکان اسمبلی بھی میدان میں ہیں۔

اردن کے آزاد انتخابی کمیشن کے مطابق اٹھائیس مقامی، عرب اور بین الاقوامی غیر حکومتی ادارے اور انجمین انتخابات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان میں امریکا سے دو ریپبلیکن اور دو ڈیموکریٹس اداروں کے نمائندوں کے علاوہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے قائم کردہ سنٹر کے اہلکاروں بھی قابل ذکر ہیں۔

ملکی دستور کے مطابق اردن میں پارلیمانی انتخاب پر چار برس بعد منعقد ہوتے ہیں۔ آخری انتخابات سن 2010ء میں ہوئے تاہم اخوان المسلمون کے ساتھ پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ اردن کے فرمانروا نے منتخب ایوان قبل از وقت تحلیل کر دیا۔

اخوان المسلمون نے بدھ کے روز ہونے والے انتخابات میں بھی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے کیونکہ اخوان کے بہ قول نئی بننے والی اسمبلی بھی ماضی کے ایوان کا چربہ ہو گی۔ اس بیان کی وجہ سے انتخاب کے بعد بھی ملک میں سیاسی بحران کے سائے گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اردن کی مجلس النواب نے گزشتہ برس جون میں نئے انتخابات کے نئے قانون کی منظوری دی تھی جس کے ایک ووٹ کے بجائے دو ووٹ کے اصول کو اپنایا گیا۔ ایک ووٹ مقامی الیکشن سرکل جبکہ دوسرا قومی لسٹ کے حق میں گنا جائے گا۔