.

دائیں بازو اور سینٹر لیفٹ اسرائیلی جماعتوں کے درمیان کڑا مقابلہ

99.9 فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے معمولی اکثریت سے عام انتخابات جیتنے کے بعد عہد کیا ہے کہ وہ ایک وسیع تر حمکران اتحاد بنائیں گے۔ اسرائیل میں ہونے والے عام انتحابات میں ووٹنگ کے بعد ایگزٹ پولز کے مطابق وزیراعظم بنیامین کے حکمران اتحاد کی پارلیمان میں اکتیس سیٹیں ہونگی جو اس وقت بیالیس ہیں۔

ایگزٹ پول جائزوں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا انتخابی اتحاد پارلیمانی انتخابات میں معمولی برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ تاہم اب نیتن یاہو کو حکومت سازی کے لیے ایک پیچیدہ مرحلے کا سامنا ہے۔

دائیں بازو کے نظریات کے حامل اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی منگل کو منعقد ہوئے ان انتخابات سے قبل فیورٹ تصور کی جا رہی تھی۔ تاہم مقامی میڈیا کے مطابق ایک بڑے ’ٹرن آؤٹ‘ کی بدولت لیبر پارٹی اور دیگر اعتدال پسند جماعتوں کو فائدہ پہنچا۔ بتایا گیا ہے کہ ووٹ ڈالنے کی شرح 66.6 فیصد رہی، جو 2003ء کے انتخابات کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

پول جائزوں کے مطابق وزیر اعظم کا لیکوڈ ۔ بیت نو بلاک 120 نشستوں والی پارلیمان میں سے 31 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ تحلیل ہونے والی پارلیمان میں اسے 42 نشستیں حاصل تھیں۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد پول جائزوں پر تبصرہ کرتے ہوئے 63 سالہ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی عوام انہیں ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ وسیع تر اتحادی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔

عوامی جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والی ایک نئی سیاسی جماعت یش عطید اٹھارہ یا انیس نشستوں پر کامیاب ہو سکتی ہے جبکہ لیبر پارٹی سترہ نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔ چوتھے نمبر پر انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست مذہبی جماعت ’جیوئش ہوم‘ قرار دی جا رہی ہے، جو متوقع طور پر بارہ نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق نیتن یاہو ’جیوئش ہوم‘ کے ساتھ ایک نیا اتحاد بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ پول جائزوں کو دیکھتے ہوئے ماہرین کی آراء ہے کہ ’ہارس ٹریڈنگ‘ کے ماہر تصور کیے جانے والے نیتن یاہو کوحکومت سازی کے لیے اب زیادہ محنت کرنا ہو گی۔ حتمی سرکاری نتائج آئندہ ہفتے سے قبل متوقع نہیں ہیں۔

اگر نیتن یاہو حکومت سازی میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے والے پہلے اسرائیلی سیاستدان بن جائیں گے۔ وہ 1996ء میں کم عمر ترین وزیر اعظم منتخب کیے گئے تھے، اس وقت ان کی عمر 45 برس تھی۔

اسرائیلی ٹیلی وژن چینلوں پر جاری کیے جانے والے پول جائزوں کے مطابق اگرچہ ان انتخابات میں حکمران پارٹی کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی تاہم پھر بھی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سازی کے لیے کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔

نیتن یاہو نے تل ابیب میں اپنی پارٹی کے صدر دفتر میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سازی کے دوران وہ زیادہ سے زیادہ پارٹیوں کو حکومت کا حصہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ انہوں نے یہ کام شروع کر دیا ہے۔ اندازہ ہے کہ نیتن یاہو کا الٹرا آرتھو ڈکس سیاسی اتحاد ساٹھ یا 63 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ نئی حکومت کی بنیاد پانچ اصولوں پر ہو گی۔ تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کی اولین ترجیح ہو گی کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکا جائے۔ اسرائیل اور مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی آڑ میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہے لیکن تہران حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

نیتن یاہو نے دیگر نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ملک میں اقتصادیات کے شعبے میں ذمہ دارانہ طرز عمل، فلسطین کے ساتھ امن معاہدےکے لیے سفارتی کوششیں اور مہنگائی میں کمی جیسے اقدامات نئی حکومت کے ترجیحی مقاصد ہوں گے۔