.

شہریوں پر عراقی حکومت کے مظالم عدیم النظیر ہیں سردار

یو این وفد کی الانبار آمد، حکومت و مظاہرین ک کو ثالثی کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراقی شہر الانبار کی مجلس شیوخ کے سربراہ حمید الشوکہ نے کہا ہے کہ عراقی عوام کو جن عدیم النظیر مظالم کا سامنا ہے انہوں نے منگول کے مظالم کو بھی مات دے دی ہے۔ حمید الشوکہ کے بہ قول اس دور میں شہریوں کے حقوق کی پامالی ایسے نہیں ہوتی تھی جیسے ان دنوں کی جا رہی ہے

اقوام متحدہ کا ایک وفد الابنار گورنری پہنچا ہے جہاں اس نے گورنری کے عہدیداروں اور احتجاجی مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات صحوہ کانفرنس کے چیئرمین احمد ابو بشر کی موجودگی میں ہوئی۔ ملاقات میں ان تمام طریقوں پر غور کیا گیا کہ جن کے ذریعے ان کے مطالبات کی تکمیل ممکن ہو سکتی ہے۔



انہوں نے 'العربیہ الحدث' سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ثالث اور خود حکومت کے اعتراف کا ذکر کیا کہ بے گناہ افراد کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ بے گناہ تھے تو انہیں چھے ماہ کیونکر حراست میں رکھا گیا۔ "ان خواتین کا کیا قصور تھا جنہیں ان کے بھائیوں کے گناہ کی پاداش میں گرفتار رکھا گیا۔" انہوں نے کہا کہ یہ بات کسی آسمانی مذہب حتی کہ رسم و رواج میں بھی گوارا نہیں کی جاتی۔ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ ان مظالم کو قبول نہ کرے۔

عراقی سردار نے العربیہ نیوز چینل کے فلیگ شپ پروگرام 'حدث الیوم" میں اپنی گفتگو سمیٹے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے یہ بات بڑی حیران کن ہے کہ باہر سے آنے والے ہر شخص ہمارے مطالبات کو جائز تسلیم کرتا ہے۔ نیز نوری المالکی بھی مطالبات کو پہلے پہل جائز قرار دیتے چلے آئے ہیں۔ اس ساری حمایت کے بعد نتیجہ کیا نکلا کہ ہم کس سے کیا بات کریں۔"

الابنار میں قبائلی سرداروں نے مقامی اور مرکزی سطح پر نینوی، صلاح الدین، دیالی اور الانبار میں دھرنا کوارڈی نیشن کے لئے کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔ ان کا مقصد مطالبات میں یکسوئی پیدا کرنے کے علاوہ حکومت کے خلاف مظاہروں کی جگہ سیاسی جماعتوں کو گڑبڑ پیدا کرنے سے بھی روکنا ہے۔