.

قاہرہ صدارتی محل کے نزدیک انقلابی مظاہرین پر اشک آور گیس کی شیلنگ

ملک بھر میں صدر محمد مرسی کے خلاف مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف برپا شدہ انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر موجودہ صدر محمد مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں جبکہ قاہرہ میں صدارتی محل کے نزدیک سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

دارالحکومت میں مظاہرین مشہور میدان التحریر سے صدارتی محل کی جانب مارچ کرنا چاہتے تھے لیکن سکیورٹی فورسز نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے برسانے شروع کر دیے۔ مصر کی وزارت صحت کی اطلاع کے مطابق قاہرہ اور دوسرے شہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں اکسٹھ افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ایمبولینس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں ننانوے افراد زخمی ہوئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی اطلاع کے مطابق مظاہرین نے قاہرہ سے مشرق میں واقع شہر اسماعیلیہ میں اسلامی جماعت اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ انصاف اور ترقی پارٹی (ایف جے پی) کے ہیڈ کوارٹرز کو نذر آتش کر دیا ہے۔ جماعت کے ایک عہدے دار نے سکیورٹی فورسز کو ایف جے پی کے ہیڈکوارٹرز کو نقصان سے بچانے میں ناکامی کا ذمے دار ٹھہرایا ہے اور کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ان کے دفاتر کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

25 جنوری انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر نماز جمعہ کے بعد قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں سب سے بڑا اجتماع منعقد کیا گیا۔ وہاں ریلی میں شریک لوگوں نے صدر محمد مرسی کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ بعض مظاہرین نے میدان التحریر کے نزدیک واقع شاہراہ شیخ ریحان پر رکھی گئی رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کی۔ وہ وزارت داخلہ کی جانب مارچ کرنا چاہتے تھے لیکن سکیورٹی فورسز نے انھیں روک دیا۔

درایں اثناء مقامی روزنامے المصری الیوم کی اطلاع کے مطابق ملک کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں بھی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور ان میں پینتالیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیکولر گروپوں نے صدر محمد مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔ ان میں سے ایک انقلابی گروپ 6 اپریل تحریک کے بانی احمد ماہر کا کہنا تھا کہ ابھی ان کے انقلاب کے مقاصد پورے نہیں ہوئے ہیں۔

حزب اختلاف کے گروپوں کے مقابلے کے لیے اخوان المسلمون نے انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر جلسے، جلوسوں کا کوئی اہتمام نہیں کیا اور نہ اپنے حامیوں پر ریلیوں میں حصہ لینے کی کوئی شرط عاید کی تھی۔ خود صدر محمد مرسی نے جمعرات کو ایک تقریر میں لوگوں سے پُرامن اور مہذب انداز میں ریلیوں میں شرکت کی اپیل کی تھی۔