.

مصری انقلاب کی خونی سالگرہ، پولیس ۔ مظاہرین جھڑپوں میں 9 ہلاکتیں

ٹیوٹر پر صدر مرسی کی پرامن رہنے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے تناظر میں صدر محمد مُرسی نے عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔ مصری صدر محمد مُرسی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے گئے پیغام کے مطابق انہوں نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ انقلاب کی اقدار کا پاس رکھیں، آزادی سے پرامن طریقے سے اپنے خیالات کا اظہار کریں اور تشدد کو ترک کریں۔

مصر میں حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بننے والے انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر قاہرہ میں جمعہ کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں کے نتیجے میں ساڑھے تین سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ہلاکتوں کی تعداد سات جبکہ زخمیوں کی تعداد ساڑھے چار سو سے زائد بتائی ہے۔

جمعہ کے مظاہرے اپوزیشن کی کال پر ہوئے جن میں دارالحکومت قاہرہ کے التحریر اسکوائر اور ملک کے دیگر علاقوں میں حکومت کے خلاف ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اپوزیشن نے ’روٹی، آزادی اور سماجی انصاف‘ کے اسی نعرے کے تحت مظاہروں کی کال دی تھی، جن کی بنیاد پر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف تحریک چلائی گئی تھی۔

مصر میں جمعہ کے روز علی الصباح متعدد مقامات پر آتشزدگی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مرسی مخالف جمہوریت نواز رضاکاروں نے جمعہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر قاہرہ میں ریلوے کلب کے قریب واقع وزارت مالیات کی عمارت میں آگ لگنے کی خبر نشر کی لیکن کسی دوسرے آزاد ذریعے سے اس واقعے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

قاہرہ کے وسط میں تحریر اسکوائر کے قریب ریسرچ اکیڈیمی میں جمعہ کے روز لگنے والی آگ پر شہری دفاع کے اہلکاروں نے قابو پا لیا۔ مصری ریلوے کے ایڈمن بلاک میں انوسٹی گیشن آفیسرز ونگ میں لگنے والی آگ سے پورا جل گیا۔ تحریر اسکوائر میں احتجاجی دھرنا دینے والے مظاہرین کے خیموں میں سیکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔

فیس بک پر 'انارکی مخالف' مہم کے رضاکاروں نے ریلوے ایڈمن بلاک میں آتشزدگی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم نے دعوی کیا کہ قصر العینی شاہراہ پر اپنے ساتھیوں کے زخمی ہونے پر ہم مصری ریلوے کی عمارت میں آتشزدگی کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب قاہرہ کے مرکز میں قصر العینی شاہراہ پر مظاہرین نے جمعہ کو علی الصباح ریسرچ اکیڈیمی پر پیٹرول بموں سے حملہ کیا تاکہ آگے بڑھ کر مجلس شوری کو آگ لگائی جا سکے۔ پٹرول بم اکیڈیمی کے احاطے میں درختوں پر گرنے سے انہیں آگ لگ گئی۔

مصری ریلوے کے انتظامی کمپاؤنڈ میں لگنے والے آگ پر فائر بریگیڈ نے جلد ہی قابو پا لیا۔ آگ پانچ منزلہ عمارت کی پہلی منزل میں لگی، جو تیزی سے پھیلتی گئی۔ اہل محلہ اور شہری دفاع کے کارکن نے فورا آگ بجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے موٹر سائیکل پر آگ لگانے والے نامعلوم افراد کو جائے حادثہ سے فرار ہوتے دیکھا۔ ان میں بعض افراد نے لیمن برج پر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں روک لیں تاکہ آگ پر قابو نہ پایا جا سکے۔ ادھر تحریر اسکوائر میں خیمہ زن احتجاجی مظاہرین کی بڑی تعداد کو منتشر کرنے کے لئے کی جانے والی آنسو گیس شیلنگ سے مظاہرین کے خیموں میں آگ لگ گئی، جس سے متاثر ہو کر مظاہرین تحریر اسکوائر گارڈن میں نکل آئے۔