.

حزب اللہ کا خفیہ سیل مکہ مکرمہ میں بم دھماکوں کا منصوبہ بنا رہا تھا

جدہ قونصل خاںے سے وابستہ مںحرف شامی سفارتکار کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے منحرف سفارتکار نے ایک چشم کشا انکشاف میں دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب کے مشرقی شہر جدہ میں شامی قونصل خانے کے نائب شوقی الشماط یوم عرفہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں بم دھماکا کرانا چاہتے تھے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق جدہ میں شامی قونصل خانے سے وابستہ فوجی بھرتی کے نگران عماد معین الحراکی نے سعودی حکام کو گزشتہ برس آگاہ کیا کہ انہیں شام کے ڈپٹی قونصل جنرل شوقی الشماط نے بتایا کہ انہیں مکہ مکرمہ میں 9 ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ میں بم دھماکے کے لئے چنا گیا ہے۔

الحراکی کے بہ قول انہیں خدشہ ہے کہ الشماط سمیت تین شامی سفارتکاروں کی سعودی عرب بیدخلی کے پیچھے اسی بم دھماکے کی منصوبہ بندی کی بھنک ہو سکتی ہے۔ الحراکی کا کہنا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے متعلقہ اداروں کو سعودی عرب میں حزب اللہ کے بیس رکنی نیٹ ورک کی بابت آگاہ کیا تھا جن کا براہ راست رابطہ بیدخل کئے جانے والے شامی سفارتکار الشماط اور جدہ میں شامی قونصل خانے سے رہتا تھا۔ یاد رہے سعودی عرب کی حکومت نے شوقی الشماط کو 25 اکتوبر 2012ء کو بے دخل کیا تھا۔

معین الحراکی شام میں انقلابی جدوجہد کے آغاز سے ہی قومی کونسل سے وابستہ ہو گئے تھے تاہم انہوں نے انقلاب کی مزید خدمت کی خاطر بغاوت کا اعلان نہیں کیا تھا۔ انہوں نے گزشتہ برس تیئس اکتوبر کو سعودی حکام کو بتایا کہ ان کا ملک مکہ مکرمہ میں بم دھماکا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی حکام کو میری اس اطلاع کے بعد ریاض نے تین شامی سفارتکاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا۔
عماد معین الحراکی نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں حج کے موقع پر بم دھماکا کرانے کے لئے میرا انتخاب شام کے جدہ میں سابق ڈپٹی قونصل جنرل نے کیا تھا تاہم انہوں نے دھماکے کی جگہ کا تعین نہیں کیا تھا۔

منحرف شامی سفارتکار نے بتایا کہ میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تھائی لینڈ میں سیاحتی تعطیلات گزار رہا تھا کہ مجھے سے سابق سفارتکار الشماط نے رابطہ کر کے بتایا کہ مجھے مکہ مکرمہ میں یوم عرفات کو دھماکا کرنا ہے کیونکہ مملکت کی سیکیورٹی کا بڑا حصہ مناسک حج کی جگہ مصروف ہو گا۔ الحراکی نے بتایا کہ مجھے الشماط نے کہا کہ دھماکے کے بعد میں واپس شام چلا جاؤں تاکہ وہاں عیش و عشرت کی زندگی بسر کر سکوں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیلی فونک پیٖغام میں دھماکے کی جگہ کا تعین نہیں کیا گیا بلکہ یہ بتایا گیا کہ اس 'مشن' سے متعلق باقی تفصیلات میری جدہ واپسی پر بتائی جائیں گی۔

مسٹر الحراکی نے بتایا کہ شامی قونصل خانے میں بم دھماکوں اور تباہی کے دوسرے منصوبے تیار کرنے والی کمیٹی ڈپٹی قونصل جنرل الشماط، قومی سیکیورٹی کے آفیسر کرنل ابراہیم الفشتکی اور شامی انٹلیجنس کی فلسطین شاخ کے کارکن علی قدیسہ پر مشتمل تھی۔ آخر الذکر شامی قومی سلامتی کے ادارے کے ڈپٹی چیئرمین جنرل عبدالفتاح قدسیہ کا کزن بتایا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب سے بیدخل کئے جانے والے تینوں سفارتکاروں کی ملک روانگی والے دن شامی وزارت خارجہ سے قونصل خانے میں ایک خط موصول ہوا جس میں انہیں دمشق طلبی کا حکم درج تھا۔ خط میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ شامی حکومت کو ایسی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں جن کی بنا پر ان کے خلاف غیر موجودگی میں 'بغاوت' کے الزام میں سزائے موت کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خط ملنے پر میں نے سعودی حکام کو تیزی سے یکے بعد دیگرے رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں آگاہ کیا جس پر انہوں نے مجھے اور میرے اہل خانہ کو پر ممکن تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ یاد رہے میں نے سعودی حکام کو ملک میں موجود حزب اللہ کے بیس رکنی دہشت گردی سکواڈ کی اطلاع بھی دی تھی۔ ان تمام کا تعلق اور براہ راست رابطہ جدہ میں شامی قونصل خانے اور بیدخل سفارتکار الشماط سے بیان کیا جاتا ہے۔