حزب اللہ کا خفیہ سیل مکہ مکرمہ میں بم دھماکوں کا منصوبہ بنا رہا تھا

جدہ قونصل خاںے سے وابستہ مںحرف شامی سفارتکار کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یوم عرفات

حزب اللہ سیل

Advertisement
مسٹر الحراکی نے بتایا کہ شامی قونصل خانے میں بم دھماکوں اور تباہی کے دوسرے منصوبے تیار کرنے والی کمیٹی ڈپٹی قونصل جنرل الشماط، قومی سیکیورٹی کے آفیسر کرنل ابراہیم الفشتکی اور شامی انٹلیجنس کی فلسطین شاخ کے کارکن علی قدیسہ پر مشتمل تھی۔ آخر الذکر شامی قومی سلامتی کے ادارے کے ڈپٹی چیئرمین جنرل عبدالفتاح قدسیہ کا کزن بتایا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب سے بیدخل کئے جانے والے تینوں سفارتکاروں کی ملک روانگی والے دن شامی وزارت خارجہ سے قونصل خانے میں ایک خط موصول ہوا جس میں انہیں دمشق طلبی کا حکم درج تھا۔ خط میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ شامی حکومت کو ایسی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں جن کی بنا پر ان کے خلاف غیر موجودگی میں 'بغاوت' کے الزام میں سزائے موت کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خط ملنے پر میں نے سعودی حکام کو تیزی سے یکے بعد دیگرے رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں آگاہ کیا جس پر انہوں نے مجھے اور میرے اہل خانہ کو پر ممکن تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ یاد رہے میں نے سعودی حکام کو ملک میں موجود حزب اللہ کے بیس رکنی دہشت گردی سکواڈ کی اطلاع بھی دی تھی۔ ان تمام کا تعلق اور براہ راست رابطہ جدہ میں شامی قونصل خانے اور بیدخل سفارتکار الشماط سے بیان کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں