.

فلوجہ میں دو عراقی فوجی ہلاک جبکہ تین دوسرے اغوا

الانبار قبائل کی فوج کے خلاف اعلان جہاد کی دھکمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراقی شہر فلوجہ کے گرد و نواح مختلف اہداف پر حملوں میں دو عراقی فوجی ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز فلوجہ شہر میں فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 7 مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس فورس کے بریگیڈئر محمود خلف نے بتایا کہ الفلوجہ میں متفرق مقامات پر حملوں میں نامعلوم مسلح افراد نے دو فوجیوں کو ہلاک جبکہ تین کو زخمی کر دیا۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مغربی عراق کی الانبار گورنری کے مختلف قبائل نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت فلوجہ میں مظاہرین پر فائرنگ سے باز نہ آئی تو علاقے میں تعینات فوجی یونٹس کے خلاف اعلان جہاد کر دیا جائے گا۔

الانبار قبائل نے نہتے مظاہرین پر فائرنگ کرنے والے فوجیوں کی حوالگی کے لئے عراقی حکومت کو سات دن کی مہلت دی ہے۔

عراقی فوج نے فلوجہ میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی غرض سے شہر میں داخلے کی کوشش کرنے والے چھے مظاہرین کو جمعہ کے روز گولی مار کر ہلاک کر دیا جبکہ اس کارروائی میں انیس دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔

جھڑپوں کے بارے میں عراقی فوجی افسر نے بتایا کہ فوج نے ان مظاہرین کو گولی ماری جنہوں نے فوجی گاڑی کو جان بوجھ کر نذر آتش کیا۔ فلوجہ میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث سیکیورٹی اہلکار اس علاقے میں آتے ہوئے ڈرتے ہیں۔

قائم مقام عراقی وزیر دفاع نے بتایا کہ انہوں نے جھڑپوں کی تفتیش کے لئے کمیٹی تشکیل دی ہے جبکہ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق عراقی فوج علاقے سے نکل گئی ہے۔ ادھر الانبار آپریشن کی نگران قیادت نے عامہ الناس اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی ہے، جسے 'سافٹ کرفیو' کا نام دیا جا رہا ہے۔

عراقی افسر نے بتایا کہ بعض مظاہرین نے فوجیوں پر جوتے اور پانی کی بوتلیں پھیکیں، جس کے جواب میں فوجیوں نے ہوا میں اندھا دھند فائرنگ کی۔ حکومت کے مطابق مظاہرین نے شام اور اردن کو ملانے والی بین الاقوامی شاہراہ بند کرنے کی بھی دھمکی دی۔

العراقیہ اتحاد اور الانبار کونسل کے چیئرمین نے جمعہ کے روز فلوجہ میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کی۔ الانبار کالونی اور دیگر گورنریوں کے ہزاروں رہائشیوں نے الرمادی شہر میں دھرنا کیمپ میں شرکت کی۔ وہاں دھرنے دینے والے مظاہرین کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر وزیر اعظم نوری المالکی کے اقتدار چھوڑنے کے مطالبات درج تھے۔ انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ اپنے مطالبات کی تکمیل تک وہ دھرنا دیئے رکھیں گے۔