.

مصری ہنگاموں میں دو فٹبالر سمیت 30 افراد ہلاک

پورٹ سعید اسٹڈیم کیس میں 21 افراد کو سزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی عدالت نے فٹبال اسٹیڈیم میں ہنگامے میں ملوث 21 افراد کو سزائے موت کی سزا سنا دی ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد ملزمان کے رشتے دار بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے جہاں ان کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے۔ پورٹ سعید میں ہونے والے ہنگاموں میں مصر کے معروف فٹبال کلبوں کے دو کھلاڑی بھی مارے گئے۔ واقعے کے بعد شہر میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ہفتے کو فیصلے کی خبر نشر ہوتے ہی سزا پانے والوں کے رشتے دار سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا۔ مصر کی وزارت صحت نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے جبکہ شہر میں فوج بھی تعینات کر دی گئی ہے۔

پورٹ سعید کے سربراہ عبدالرحمان فراغ نے اسپتال ذرائع کو بتایا کہ واقعات میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 312 زخمی ہو گئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مینا' کے مطابق جنرل احمد واصفی نے کہا کہ ہم نے شہر میں امن اور لوگوں کے تحفظ کیلیے کچھ فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ نامعلوم مشتعل مظاہرین نے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل فائر کیے جانے کے جواب میں پولیس پر خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

جیل کے اطراف میں کیے جانے والے پرتشدد مظاہرے کے پیش نظر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے پولیس کی گاڑیاں تعینات کردی گئی ہیں اور اطراف کی دکانیں بھی آج بند کرا دی گئی ہیں۔ اس سے قبل جج عبدالمغید نے 21 افراد کو سزائے موت دینے کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا۔

عدالت نے اس فیصلے کو منظوری کیلیے ملک کے سب سے بڑے عالم کے پاس بھجوادیا ہے، مصر کے قانون کے تحت کسی بھی فیصلے کی مفتی اعظم سے منظوری لینا ضروری ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اس ہنگامے میں ملوث 9 پولیس افسران سمیت دیگر 52 افراد کے مقدمے کا فیصلہ سنانے کیلیے 9 مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

گزشتہ سال فروری میں المصری اور الاہلی کے درمیان میچ کے بعد شائقین کے درمیان ہونے والے تصادم میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے بعد قاہرہ میں کئی دن تک پرتشدد احتجاج کیا گیا تھا جس میں مزید 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

گزشتہ سال ہنگاموں میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کے والد نے کورٹ کے باہر اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اس فیصلے سے مطمئن ہوں۔

ایک اور شخص حسان مصطفیٰ نے واقعے میں اپنے دوست کی موت کی منظر کشی کے بعد کہا کہ میں اس فیصلے سے بہت خوش ہوں تاہم انہوں نے اس واقعے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک دن قبل مصری انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر صدر مرسی کیخلاف ہونے والے مظاہروں کے درمیان جھڑپ میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 456 زخمی ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال فروری میں المصری اور الاہلی کی ٹیموں کے درمیان فٹبال میچ ختم ہونے کے بعد المصری کے حامیوں نے اسٹیڈیم میں گھس کر حریف ٹیم کے شائقین پر حملہ کر دیا۔ اس میچ میں المصری کی ٹیم نے تین کے مقابلے میں ایک گول سے کامیابی حاصل کی تھی۔