.

اسرائیل میں ایتھوپیئن خواتین کو بانجھ پن کے زبردستی انجیکشن لگانے کا انکشاف

انسانی حقوق کی انجمنوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل میں یہودی آبادیاتی تناسب کو صہیونی ریاست کے حق میں برقرار رکھنے کے لئے ایتھوپیا سے اسرائیل آنے والی یہودی خواتین کو اچھوت سمجھ کر مانع حمل ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔ عمومی طور پر مانع حمل ادویہ یا انجیکشن پس ماندہ خواتین کو لگائے جاتے ہیں کیونکہ ان کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان کے بچے کی ولادت کی صورت میں وہ اس کی پرورش نہیں کر سکیں گی۔

اس بات سے قطع نظر کہ ایتھوپیا سے اسرائیل میں آباد کاری کے لئے آنے والے یہودیوں کو صہیونی منصوبہ ساز اپنی مخصوص آبادیاتی ضرورت کے لئے استعمال کرتے ہیں تاہم حالیہ چند برسوں کی رپورٹس کے جائزے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یہود الفلاشا طبقے کو انسانی حقوق اور جمہوریت چیمپیئن اسرائیل میں انتہائی شرمناک نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہودی ہونے کے باوجود ان کے بچوں کو اسرائیلی سکولوں میں کم تر درجے کے شہری اور انسان سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے ایتھوپیا سے آنے والے یہودیوں کو افزائش نسل کی آزادی حاصل نہیں ہے۔ اسرائیلی ان کی آبادی میں اتنا ہی اضافہ چاہتا ہے جو انہیں مقبوضہ عرب علاقوں کے اصل باسیوں کے مقابلے میں عددی اکثریت دلانے کے لئے ضروری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اسرائیل کے ایک تعلیمی ٹی وی نیٹ ورک پر ایتھوپیئن خواتین کو دیئے انٹرویوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہیں دھمکی دے کر زبردستی مانع حمل ٹیکے لگائے گئے۔ احتجاج یا انکار کرنے والی خواتین کو باور کرایا گیا کہ لگائے جانے والے انجیکشن دراصل متعدی امراض سے بچاؤ کی ویکسین ہے۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے ایتھوپیئن خواتین میں اسرائیل کے تعاون سے خفیہ فیملی پلاننگ مہم جاری ہے۔ انسانی حقوق اور مغربی ملکوں کی متعدد خواتین انجمنوں نے صہیونی ریاست میں ریاستی پالیسی کے طور پر اچھوت شہریوں میں جبری بانجھ پن پیدا کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خود غرض اسرائیلی حکام اپنی مطلب براری کے بعد اپنے ہی شہریوں سے غیر انسانی سلوک کا ارتکاب کر رہے ہیں، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔