.

البرادعی نے صدر مرسی کی مذاکرات کی پیش کش مسترد کر دی

قومی حکومت کی تشکیل سے متعلق مطالبات کی منظوری تک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی حزب اختلاف نے ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے صدر محمد مرسی کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک ان سے کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔

حزب اختلاف کے گروپوں پرمشتمل قومی محاذ آزادی کے رہ نما محمد البرادعی اور دوسرے لیڈروں نے قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس میں صدر مرسی سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر مرسی نے آج سوموار کی شام چھے بجے حزب اختلاف کے لیڈروں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔

محمد البرادعی نے کہا کہ صدر محمد مرسی کو پہلے قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینی چاہیے اور گذشتہ ماہ توثیق شدہ متنازعہ آئین میں ترامیم کے لیے ایک کمیشن نامزد کرنا چاہیے۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سابق سربراہ محمد البرادعی کا کہنا تھا کہ ''اگر مذاکرات کا کوئی واضح ایجنڈا ہو تو ہم ان کے حامی ہیں لیکن صدر نے ہمیں جن مذاکرات کی دعوت دی ہے،ان کا کوئی ایجنڈا سامنے نہیں آیا ہے''۔



درایں اثناء قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور وہاں پولیس اور پتھر پھینکنے والے مظاہرین میں جھڑپوں میں ایک نوجوان ہلاک ہو گیا ہے۔

مصری حکام کی اطلاع کے مطابق یہ نوجوان گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا تھا لیکن وہ اسپتال لے جاتے ہوئے راستے ہی میں دم توڑ گیا۔ قاہرہ میں انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر گذشتہ جمعہ کو شروع ہونے والے پرتشدد ہنگاموں میں یہ پہلی ہلاکت ہے۔

مصر کے مختلف شہروں میں گذشتہ جمعرات سے جاری پرتشدد ہنگاموں اور حکومت مظاہروں میں چھپن افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صدر مرسی نے پرتشدد واقعات پر قابو پانے کے لیے تین گورنریوں پورٹ سعید، سویز اور اسماعیلیہ میں اتوار سے ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔