.

صدر مرسی نے شورش زدہ صوبوں میں ہنگامی حالت نافذ کردی

تشدد جاری رہنے کی صورت میں مزید اقدامات کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے صدر محمد مرسی نے تین صوبوں میں حالیہ شورش اور تشدد کے واقعات کے بعد ہنگامی حالت نافذ کردی ہے اور مصر کی سکیورٹی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کی دھمکی دی ہے۔

صدر مرسی نے اتوار کی رات ایک نشری تقریر میں تین صوبوں پورٹ سعید ،سویز اور اسماعیلیہ میں ہنگامی اقدامات کے نفاذ کا اعلان کیا ہے جو نصف شب (گرینچ معیاری وقت 2200جی ایم ٹی اتوار) سے تیس روز کے لیے نافذ العمل ہوں گے۔ان تینوں صوبوں میں رات نو بجے سے صبح چھے بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔

انھوں نے کہا:''میں یہ کہہ چکا ہوں کہ میں کسی قسم کے ہنگامی اقدامات کے خلاف ہوں لیکن میں یہ بھی کہہ چکا ہوں کہ مجھے خونریزی کو روکنا اور لوگوں کو تحفظ مہیا کرنا ہے تو مجھے اقدام کرنا ہوگا''۔

انھوں نے خبردار کیا کہ ''اگر مہلک تشدد کا خاتمہ نہ ہوا تو میں مصر کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کو بھی تیار ہوں۔یہ میرا فرض ہے اور میں کسی قسم کی ہچکاہٹ کا مظاہرہ نہیں کروں گا''۔

صدرمرسی نے مسئلے کے حل کے لیے ملک کی حزب اختلاف اور سیاسی لیڈروں کو سوموار کو مذاکرات کی بھی دعوت دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں ہے۔اس ضمن میں تمام تفصیل پر مشتمل ایک صدارتی بیان الگ سے جاری کیا جارہا ہے۔

مصری صدر نے ہنگامی حالت اور کرفیو کے نفاذ کا اعلان پورٹ سعید میں گذشتہ سال پیش آئے تشدد کے بدترین واقعہ میں ملوث افراد کو سزائے موت سنائے جانے کے ردعمل میں خونریز واقعات اور بلووں کے بعد کیا ہے۔پورٹ سعید میں ہفتے کے روز پرتشدد ہنگاموں میں پینتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اتوار کو مزید چھے افراد ہلاک ہوئے ہیں اور چارسوساٹھ زخمی ہیں۔



صدر مرسی نے ان خونریز واقعات کا محرک بننے والے عدالتی فیصلہ کے احترام کی ضرورت پر زوردیا ہے اورتشدد کوقانون اور انقلاب کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''میں نے وزارت داخلہ کو عوام کی سلامتی اور سرکاری املاک پر حملہ کرنے والوں ،ہتھیاروں کا استعمال کرنے والوں ،سڑکیں بند کرنے والوں اور بے گناہ لوگوں پر پتھر پھینکنے والوں کے خلاف فیصلہ کن طاقت استعمال کے استعمال کی ہدایت کردی ہے''۔