.

مصر میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے خلاف ملا جلا ردعمل

6 اپریل تحریک صدارتی اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے مختلف طبقوں نے صدر محمد مرسی کی جانب سے شورش زدہ تین صوبوں میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے خلاف ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔بعض نے اس کی سخت مخالفت کی ہے اور بعض نے اس کی حمایت کی ہے جبکہ 6اپریل تحریک نے صدارتی فرمان کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلا ن کیا ہے۔

تحریک نے سوموار کو مصری صدر کے خلاف ایک بیان جاری کیا ہے۔اس میں اس نے کہا ہے کہ ''محمد مرسی روز بروز ملکی تاریخ کے سب سے بدترین صدر ثابت ہورہے ہیں۔وہ ایک کریمنل ہیں اور مصری عوام کے مفاد میں کام نہیں کررہے ہیں''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''ہم مصری صدر کے بولنے کے منتطر تھے کہ وہ لوگوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اقدامات کریں گے لیکن اخوان المسلمون کے لیڈر نے مزید ہلاکتوں کی دھمکی دے کر صورت حال کو بدترین بنا دیا ہے۔

تحریک نے وزارت داخلہ اور اخوان المسلمون پر پورٹ سعید میں اتوار کو جنازے کے شرکاء کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا ہے۔مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق شہر میں گذشتہ روز فائرنگ کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔سکیورٹی فورسز نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے بھی پھینکے تھے جس کے نتیجے چار سو سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے اوراڑتیس افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔

حزب اختلاف کے گروپوں پر مشتمل قومی محاذ آزادی نے دبے لفظوں میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ صدر کو جلد یا بدیر تشدد کے خاتمے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا چاہئیں تھے۔

تاہم محاذ کے ترجمان خالد داؤد کا کہنا ہے کہ ''صدر برسرزمین حقیقی مسائل کے بارے میں جانے کی کوشش نہیں کررہے ہیں اور یہ ان کی اپنی پالیسیاں ہیں''۔ان کا کہنا تھا کہ صدر کی جانب سے ہنگامی حالت کا نفاذ متوقع تھا۔

صدر مرسی نے ملک کی گیارہ سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کوبحران کے حل کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کی غرض سے آج شام مقامی وقت کے مطابق چھے بجے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ان میں اسلامی ،لبرل اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں۔محاذآزادی میں شامل چار بڑے لیڈروں میں سے حمدین صباحی ان مذکرات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرچکے ہیں اور محمد البرادعی نے ان مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دیا ہے۔