.

الاخضرالابراہیمی نے جنیوا اعلامیے کو مبہم قرار دے دیا

سلامتی کونسل سے شامی بحران پرفوری اقدام کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ اورعرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضرالابراہیمی نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ شام لمحہ لمحہ تباہ ہورہا ہےاور وہ بحران کے حل کے لیے فوری اقدام کرے۔انھوں نے شامی بحران کے حل کے لیے جنیوا اعلامیے کو مبہم قرار دیا ہے۔

الاخضرالابراہیمی نے العربیہ ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''جنیوا اعلامیے میں ایک اہم عنصر ہے اور وہ ایک انتظامی باڈی کی تشکیل ہے۔اس کو وہ مکمل اختیارات کی حامل عبوری حکومت کہتے ہیں''۔یادرہے کہ 30 جون 2012ء کو جنیوا میں طے پائے اعلامیے میں شام میں جاری خونریزی کے خاتمے اور ایک عبوری حکومت کے قیام سے اتفاق کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس اعلامیے میں بڑی ہوشیاری سے ایک ابہام پیدا کردیا گیا تھا اور میں نے ان سے کہا تھا کہ اس ابہام کو دور کیا جائے۔انھوں نے تجویز پیش کی کہ اس اعلامیے میں ''مکمل انتظامی اختیارات'' کے الفاظ کو ''ریاست کے تمام اختیارات'' سے تبدیل کردیا جائے۔

الاخضرالابراہیمی کی اقوام متحدہ کے ایلچی کی حیثیت سے مدت فروری میں ختم ہورہی ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ اپنی مدت میں توسیع چاہیں گے تو ان کا جواب تھا:''میں شکست خوردہ نہیں ہوں۔میرے پاس کوئی انتخاب نہیں۔اقوام متحدہ اس مسئلے سے جڑا رہے گی خواہ میں رہوں یا نہ رہوں لیکن فی الوقت تو میں خود کو مکمل طور پر غیر مفید سمجھتا ہوں۔میں یہ عہدہ چھوڑ دوں گا۔میں نے اس کی تمنا نہیں کی تھی بلکہ میں اس ذمے داری کو اپنا فرض سمجھ کر نبھا رہا ہوں۔مجھے سلامتی کونسل کے نقطہ نظر کو ملحوظ رکھنا ہے اور وہ مجھے کام جاری رکھنے کا کہہ رہے ہیں''۔

عالمی ایلچی نے خبردار کیا کہ خطہ خطرناک صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے اور اس کے پوری دنیا پر اثرات مرتب ہوں گے۔اس لیے دنیا کو فوری اقدام کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ''میرے خیال میں سلامتی کونسل اپنی اس بات کو جاری نہیں رکھ سکتی کہ ان کے درمیان عدم اتفاق ہے بلکہ انھیں اس مسئلہ پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہوگا''۔

درایں اثناء شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد نے کہا ہے کہ صدر بشارالاسد کی حکومت نے دنیا کی جانب سے کوئی اقدام نہ ہونے کے پیش نظرملک میں انسانیت مخالف جرائم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔اتحاد نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منگل کو حلب کے نواح میں قتل عام کے واقعہ کی تحقیقات کریں۔

حلب کے نواح سے گذشتہ روز اسی لاشیں ملی تھیں۔ انھیں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔باغی جنگجوؤں نے اسد حکومت پر ان ہلاکتوں کا الزام عاید کیا ہے جبکہ شامی حکومت نے سخت گیر جہادی گروپ النصرۃ محاذ کو اس واقعہ کا ذمے دار قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ شامی حکومت ماضی میں بھی سخت گیر جنگجو تنظیموں پر اس طرح کے الزامات عاید کرتی رہی ہے۔