.

شامی عوام کی امداد کے لئے 300 ملین ڈالر کویتی امداد

'سیکیورٹی کونسل شامیوں کی مشکلات کم کرنے میں مدد کرے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کو درپیش انسانی بحران کے جلو میں کویت میں ڈونر کانفرنس کا آغاز ہو گیا ہے۔ کانفرنس میں 59 ملک شرکت کر رہے ہے۔ کویت کے امیر صباح الاحمد الجابر الصباح نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ شام میں اس وقت جو خلا پیدا ہو چکا ہے اس کا باعث بشار الاسد ہیں اور یہ بات قابل افسوس ہے کہ بین الاقوامی برادری اس صورتحال سے لاتعلق نظر آ رہی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ شامی عوام کے مشکلات خاتمے کے یو این سیکیورٹی کونسل مداخلت کرے۔ کویتی امیر نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کونسل کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ساٹھ ہزار شامی ملک میں جاری بحران میں جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بحران حل کے منصوبے ناکام ہو گئے تو شامی عوام کی مشکلات جاری رہیں گی۔ انہوں نے شامی عوام کی امداد کے لئے کویت کی جانب سے تین سو ملین ڈالر مالیت کی امداد کا اعلان کیا۔ بین الاقوامی خوراک پروگرام نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ شامی بحران کے زراعت کے شعبے پر بہت منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ادھر کویتی وزیر خارجہ الشیخ صباح الخالد الصباح نے بتایا کہ ڈونر کانفرنس میں شریک ملکوں کو شام کے لئے زیادہ سے زیادہ مالی تعاون دینے کی اپیل کی جائے گی تاکہ یو این اور اس کے پارٹنر ادارے شام کے اندر اور دوسرے ملکوں میں محفوظ جگہوں پر بسیرا کرنے والے شامیوں کو ضروری امداد فراہمی کے قابل ہو سکیں۔

ان خیالات کا اظہار کویتی عہدیدار نے ڈونر کانفرنس کے خدوخال بیان کرنے کی غرض سے منعقدہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ ڈونر کانفرنس کویتی امیر اور یو این جنرل سیکرٹری بین کی مون کی کال پر منعقد کی جا رہی ہے تاکہ اپنے ملک کی بحرانی صورتحال کے باعث ہمسایہ ممالک نقل مکانی کرنے والوں کی امداد کی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شامی عوام کی مشکلات کے لئے قابو پانے کی غرض سے ہمیں ڈیڑھ ارب امریکی ڈالرز امداد جمع کرنا ہے۔ کویتی عہدیدار نے کہا کہ یو این جنرل سیکرٹری اس سے قبل دسمبر میں دنیا بھر کے ملکوں کو روز بروز بگڑتے ہوئے حالات کے بارے میں خبردار کر چکے تھے۔ کویت میں حالیہ ڈونر کانفرنس کا اہتمام دراصل بین کی مون کی اسی کال کا نتیجہ ہے۔