.

قاہرہ: صدارتی محل کے باہر سکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں

دُوبدو لڑائی میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدارتی محل کے نزدیک مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان جاری لڑائی میں شدت آ گئی ہے اور اس میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق نماز جمعہ کے بعد سیکڑوں مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے صدارتی محل کی جانب جانے کوشش کی۔ اس دوران سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے انھیں روکا تو ان کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

مظاہرین نے صدارتی محل کی جانب پتھر اور پیٹرول بم پھینکے جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور ان پر اشک آور گیس کے گولے پھینکنے کے علاوہ پانی کا بھی استعمال کیا۔ حکومت مخالف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے قاہرہ میں برطانوی سفارت خانے کی عمارت پر بھی پیٹرول بم پھینکے ہیں۔

قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر احتجاج کے علاوہ ہزاروں افراد نے میدان التحریر میں نماز جمعہ کے بعد ریلی نکالی ہے اور صدر مرسی کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ محمد مرسی نے صدر منتخب ہونے کے بعد انقلاب کے نعروں سے انحراف کیا ہے اور وہ انقلاب کے مقاصد کو پس پشت ڈال کر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ میدان التحریر میں احتجاج کرنے والے مصریوں نے شوریٰ کونسل کے باہر دھرنا دینے کی اپیل کر رکھی تھی۔ تاہم سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مظاہرین کو شوریٰ کونسل کی عمارت کی جانب بڑھنے سے روک دیا۔

مصر کے شمال مشرقی شہر پورٹ سعید اور دوسرے بڑے شہر اسکندیہ میں بھی صدر مرسی کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کے روز مصر کی ایک عدالت نے گذشتہ سال پورٹ سعید میں قاہرہ کے الاہلی فٹ بال کے حامیوں کی ہلاکتوں کے مقدمے میں اکیس افراد کو سزائے موت سنائی تھی۔ اس فیصلے کے ردعمل میں پورٹ سعید اور دوسرے شہروں میں پرتشدد ہنگامے شروع ہو گئے تھے اور ان میں چھپن افراد مارے گئے تھے۔ ان تشدد آمیز واقعات کے بعد صدر مرسی نے امن وامان کی صورت حال پر قابو پانے کے لیے تین صوبوں پورٹ سعید، سویز اور اسماعیلیہ میں ہنگامی حالت نافذ کردی تھی لیکن اس کے باوجود بر سر زمین کوئی بہتری نہیں آئی اور پُرتشدد ہنگاموں کا سلسلہ جاری ہے۔