ایران کے سابق پراسیکیوٹر سعید مرتضاوی گرفتار

صدر اور اسپیکر تنازع کے مرکزی کردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی دو مرکزی سیاسی شخصیات کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے جلو میں ملک کے سابق پراسیکیوٹر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر کی ویب سائٹ کے ذریعے سعید مرتضاوی کی گرفتاری کی تصدیق ہوئی تاہم انہیں حراست میں لینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

تاہم اس مرحلے پر سابق جوڈیشنل افسر کی گرفتاری کے ڈانڈے صدر محمود احمدی نژاد اور پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی کے درمیان تنازعے سے ملائے جا رہے ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی نے ایک مراسلے میں بتایا کہ مرتضاوی کو 'ایوین' جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہیں دفتر سے واپسی پر گھر جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔

سعید مرتضاوی کو سن 2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں مبنیہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں گرفتار کئے جانے والے تین مظاہرین کی دوران حراست ہلاکت کے بعد پراسیکیوٹر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ فارس کے بہ قول سعید مرتضاوی کی گرفتاری کا تعلق زیر حراست مظاہرین کی ہلاکت کے معاملے سے بھی ہو سکتا ہے۔

ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنیجی نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں بتایا تھا کہ ایرانی عدالت مظاہرین کی دوران حراست ہلاکت کے مقدمے کی سماعت مارچ میں کر سکتی ہے۔

تاہم مرتضاوی کا نام اتوار کے روز ایک دوسرے حوالے سے سامنے آیا جب ایرانی صدر احمدی نژاد نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کے اہل خانہ پر بدعنوانی کا الزام عاید کیا۔ اس الزام کے بعد ایران کے دونوں طاقتور سیاسی شخصیات کے درمیان دیرنیہ تنازعہ ایسے وقت میں مزید شدت اختیار کر گیا کہ جب قومی انتخابات میں چند ماہ باقی ہیں۔

صدر احمدی نژاد نے ایک وزیر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام بنانے کے لئے اپنے خطاب کے دوران ایک ٹیپ چلائی جس میں اسپیکر علی لاریجانی کے بھائی فضل اور سعید مرتضاوی کے درمیان ایک ملاقات دکھائی گئی۔ اس مبینہ ملاقات میں فصل لاریجانی نے اپنے نمایاں خاندانی سیاسی مقام کو مالی مفاد کی خاطر استعمال کرنے کی کوشش کی۔

علی لاریجانی اور فضل دونوں نے بدعنوانی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فضل نے کہا کہ وہ احمدی نژاد اور مرتضاوی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ ایرانی عدلیہ کے سربراہ علی لاریجانی اور فضل لاریجانی کے بھائی ہیں۔

اتوار کے روز برطرف کئے جانے والے وزیر محنت عبدالرضا شیخ الھاشمی نے سعید مرتضاوی کو گزشتہ برس سوشل سیکیورٹی کے محکمے کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ ارکان اسمبلی نے اس تقرری کی مخالفت کی تھی۔

"صحافت کے قصاب" کے طور پر مشہور سعید مرتضاوی اصلاح پسند حلقوں کے ترجمان اخبار و جرائد بند کرانے میں پیش پیش رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے مرتضاوی کو انسانی حقوق پامالی کا یکے بعد دیگرے ارتکاب کرنے والی شخصیت قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں