صدرمرسی کو خاندان کے شاہانہ تفریحی دورے پر تنقید کا سامنا

عوام غربت کا شکار،مہنگائی روزافزوں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے صدرمحمد مرسی کو انقلابیوں کی جانب سے ان کے وعدے پورے نہ ہونے پر تنقید کا تو پہلے سے ہی سامنا تھا، اب انھیں ان کے خاندان کے شاہانہ تفریحی دورے کی وجہ سے عوامی حلقوں کی نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

مصری میڈیا میں یہ رپورٹ سامنے آئی ہے کہ صدر کے خاندان اور دوستوں نے بحیرۂ احمر کے کنارے واقع ساحلی مقام تبہ کا تفریحی دورہ کیا ہے جہاں انھوں نے ہلٹن ہوٹل میں قیام کیا اور ان کے لیے بارہ کمرے بُک کیے گئے تھے۔اگر انھوں نے یہ تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے تو پھر ان پر تنقید کا جواز نہیں لیکن بہت مصریوں کا کہنا ہے کہ محمد مرسی کے مالی وسائل اتنے زیادہ نہیں کہ وہ اپنے خاندان کے لیے طیارہ چارٹر کراسکیں۔

صدر مرسی کا خاندان اور ان کے عزیزواقارب ایک نجی جیٹ طیارے کے ذریعے وہاں گئے تھے۔مصر کے روزنامے المصری الیوم نے اطلاع دی ہے کہ وہ گذشتہ بدھ کو تبہ پہنچے تھے۔ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ صدر مرسی کے خاندان کے علاوہ اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی کے عہدے داروں کے بیگمات بھی تبہ میں سیروتفریح کے لیے آئی تھیں۔

مصر کے ایک لکھاری وحید حامد نے روزنامہ الشروق مین لکھا ہے کہ ''ہمارا ملک غریب ہے،ملک میں ہر روز بھوک کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔صدر محمد مرسی کے مالی وسائل اتنے زیادہ نہیں ہیں کہ وہ ہوٹل کے بارہ کمروں کے بھاری اخراجات برداشت کرسکیں''۔

المصری الیوم کی رپورٹ کے مطابق صدر کا خاندان اور سیر کے لیے تبہ جانے والے ہفتے کی سہ پہر ایک نجی طیارے کے ذریعے قاہرہ واپس آگئے تھے۔یہ طیارہ سمارٹ ایوی ایشن کمپنی کا ملکیتی تھا۔اس کمپنی کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ پرواز کا ایک گھنٹۓ کا خرچ چھے ہزار امریکی ڈالرز ہے۔کل لاگت میں طیارے کی پرواز کے لیے تیاری اور اپنی جائے منزل پر اترنے کا وقت بھی شامل ہوتا ہے۔

سمارٹ ایوی ایشن کمپنی کے سربراہ رضوان سلام اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ مرسی کے خاندان کے لیے طیارے کو کس نے کرائے پر حاصل کیا تھا؟

سماجی روابط کی ویب سائٹس پر صدر مرسی کے خاندان کے شاہانہ تفریحی سفر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ایک صارف نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ''تمام اخراجات شہریوں کی جیب سے ادا کیے گئے ہیں''۔

ملک کی سب سے بڑی اور منظم سیاسی مذہبی جماعت اخوان المسلمون سے ماضی میں تعلق رکھنے والے صدر مرسی کے خاندان اور قریبی دوست احباب نے یہ تفریحی سفر ایسے وقت میں کیا تھا جب قاہرہ اور دوسرے شہروں میں صدر کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔

گذشتہ جمعہ کو قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر صدر مرسی کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں ایک شخص ہلاک اور کم سے کم پچاس زخمی ہوگئے تھے جبکہ گذشتہ ہفتے مصر کے مختلف شہروں میں عوامی انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر تشدد کے واقعات میں پچاس سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں