.

قاہرہ: شامی نوجوان کی ایرانی صدر پر جوتے سے حملہ کی کوشش

بشار الاسد کے لئے تہران کی حمایت کے خلاف نعرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دورہ مصر میں قاہرہ کی 'الحسین' مسجد آمد کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کرنے والے چار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے 'اناطولیہ' کے مطابق اس موقع پر ایک شامی نوجوان نے ایرانی صدر کو مسجد 'الحسین' سے باہر نکلتے وقت حملے کی کوشش کی۔ احمدی نژاد مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کرنے 'الحسین' مسجد آئے تھے۔ مصری سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں شامی نوجوان ایرانی صدر کو جسمانی ایذا پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے حملہ آور کو حراست میں لے لیا۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق بادی النظر میں ایسا دکھائی دیتا تھا کہ شامی نوجوان نے محمود احمدی نژاد کے 'الحسین' مسجد سے باہر نکلتے وقت ان پر جوتے سے حملہ کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ احمدی نژاد کے مسجد سے باہر نکلنے پر ان کا سامنا ایک نوجوان سے ہوا جو شامی لہجے میں عربی بول رہا تھا۔ اس نے اپنا جوتا ایرانی صدر کی طرف اچھالنے کی کوشش کی لیکن اسی دوران مصری سیکیورٹی اہلکاروں نے اس پر غلبہ پا لیا۔

اس دوران شامی نوجوان ایرانی صدر کی شامی حکمران بشار الاسد کے لئے حمایت کرنے پر انہیں برا بھلا کہتا رہا۔ بہ قول حملہ آور نوجوان 'تم نے ہمارے بھائیوں کو مروا دیا۔"

واقعے کی موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ شامی نوجوان احمدی نژاد سے صرف چند میٹر کے فاصلے پر تھا کہ اس نے چلاتے ہوئے اپنا جوتا ایرانی صدر کی جانب اچھالا، تاہم نشانہ چوکنے پر جوتا محمود احمدی نژاد کے حفاظتی دستے میں شامل افراد کو جا لگا۔

ایرانی صدر کی 'الحسین' مسجد میں موجودگی کے وقت دو افراد کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ ایک شخص نے اپنے ہاتھ کتبہ اٹھا رکھا تھا جس پر درج تھا کہ "مصر میں، اگر اللہ نے چاہا؛ تو تم امان کے ساتھ داخل ہو گے"۔ اس بینر پر نظر پڑنے والے دوسری شخص نے بآواز بلند کہا کہ 'تم ہمارے بھائیوں کو قتل کرو اور ہم تمھیں مصر میں امان سے داخل ہونے دیں، ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔'