.

مصری سلفیوں کے ایرانی قربت سے انکار پر اسرائیل کا اطمینان

قاہرہ میں سابق اسرائیلی سفیر کا خصوصی مضمون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے مصر میں سابق سفیر نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو اس بات کا اطمینان ہے کہ قاہرہ، ایران سے دوستی کی پینگیں نہیں بڑھائے گا۔

ان خیالات کا اظہار قاہرہ میں خدمات سرانجام دینے والے سابق اسرائیلی اسحاق لیوانون نے عبرانی اخبار 'یدیعوت احرونوت' میں اپنے مضمون میں کیا ہے۔ لیوانون نے بتایا کہ انہیں ایک مصری عہدیدار نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران سے دوستی کا سلسلہ بڑھایا نہیں جائے گا۔

اسرائیلی سفیر کے بہ قول مصری اہلکار کا کہنا تھا کہ قاہرہ کو مصر میں شیعہ ازم کے فروغ کی درپردہ کوششوں کا علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر اپنے ہاں شیعہ مذہب کی ترویج روکنے کی خاطر ایڑی چوٹی کا زور لگا دے گا۔

مصری اخبار 'المصری الیوم' نے لیوانون کے حوالے سے اپنی حالیہ اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ سابق سفیر سمجھتے ہیں کہ مصری سلفی ایران سے دوستی بڑھانے کی راہ میں کسی نہ کسی طرح رکاوٹیں ڈالیں گے۔

اسحاق لیوانون نے مزید کہا کہ مصری صدر محمد مرسی اپنے علم اور سیاسی بصیرت کی روشنی میں اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اخوان المسلمون ایرانی قریب کی متمنی نہیں، بالخصوص اخوان جانتے ہیں کہ ایرانی حکومت مصر میں دینی عزائم رکھتی ہے۔

اسرائیلی سفیر نے اپنے مقالے کا اختتام ان الفاظ پر کیا ہے کہ: "امریکا اور اسرائیل دونوں کو اس بات پر اطمینان ہونا چاہئے کہ ظاہری طور پر مصر اور ایران کا رابطہ برقرار رہے گا، لیکن ایران، فی الوقت مصر سے جو مصالحت چاہتا ہے اس کے دور تک قاہرہ کے سیاسی اور سماجی افق پر نشان نہیں۔"

واضح رہے کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے حالیہ دورہ مصر کو اسرائیلی اخبارات اور ویب سائٹس نے نمایاں کوریج دی کیونکہ یہ چونتیس برس بعد کسی بھی ایرانی صدر کا پہلا دورہ مصر تھا۔ نیز تل ابیب کے سیاسی اور سماجی حلقے مصری۔ایرانی قربت سے بہت زیادہ پریشان بھی دکھائی دیئے۔