.

خواتین سیاسی کارکن شیطان کی چیلیاں ہیں: ابو اسلام

تحریر سکوائر میں عصمت دری کی شکار خواتین "صلیبیات" تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ایک سلفی عالم دین احمد محمود عبداللہ المشہور 'ابو اسلام' نے قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران خواتین کی عصمت دری یا انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا متاثرہ خواتین "بیوائیں" یا "صلیبی" ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر دیکھے جانے والے "الامة" ٹی وی کے مالک ابو اسلام کے ویڈیو پیغام کی تحریر اسکوائر میں موجود خواتین سیاسی کارکنوں نے شدید مذمت کی ہے۔ خواتین نمائندوں کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے تاریخی میدان تحریر میں گئیں لیکن انہیں ان کے عورت پن سے محروم کر کے اپنے مطالبات ترک کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
سلفی عالم دین کا کہنا تھا کہ تحریر اسکوائر میں آنے والی خواتین احتجاج نہیں بلکہ عصت دری کروانے آتی ہیں۔ نوے فیصد صلیبیات ہیں جبکہ دس فیصد ایسی بیوائیں ہیں کہ جنہیں گھر میں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوتا۔ اپنے متنازعہ خطبے میں ابو اسلام نے ان خواتین کو بے خوف، بے ادب اور بے حیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو عورت کہلانے کی بھی حقدار نہیں۔

احتجاج کرنے والی خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے ابو اسلام کہتے ہیں کہ اے شیخہ اپنے عورت پن کی حفاظت کریں۔ عورت ہونا آپ کا شرعی حق ہے۔ انہوں نے کہا تحریر اسکوائر جانے والی شیطان تھیں، انہیں عورتوں کا نام دے دیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مصر میں عوامی انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر تحریر اسکوائر میں صدر مرسی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والی 25 خواتین کی عصمت دری کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ ابو اسلام کے خلاف عیسائی مذہب کی توہین کے بھی متعدد مقدمات پراسیکیوٹر جنرل کے ہاں پیش ہوتے رہتے ہیں۔

یاد رہے کہ مصری جریدے 'التحریر' کو انٹرویو میں ابو اسلام دھمکی دی تھی کہ وہ پیغمبر اسلام کو توہین پر مبنی فلم کے خلاف امریکی سفارتخانے کے سامنے مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں کے جلو میں اپنے بیٹے کے ہمراہ انجیل مقدس کو نذر آتش کریں گے۔