.

شامی جنرل کی بیٹی اسدی فوج کے خلاف جنگ میں کمان کر رہی ہیں

بچپن میں والد سے ملنے والی فوجی تربیت کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد حکومت کے خلاف سرگرم جیش الحر میں سرکاری فوج کے منحرف اہلکاروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے تاہم حال ہی میں بشار الاسد کے خلاف نبرد آزما جیش الحر کی صفوں میں منفرد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ اضافہ ایک شامی جنرل کی صاحبزادی کی شکل میں ہے کہ جو اپنے والد سے ملنے والی فوجی تربیت کو انہی کی زیر کمان لڑنے والی سرکاری فوج کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی میں استعمال کر رہی ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق تیس سالہ امیرہ العرعور حلب میں جیش الحر بریگیڈ میں سیکنڈ ان کمان ہیں۔ اس حیثیت میں وہ فوجی کارروائیوں کے لئے احکامات جاری کر رہی ہے۔ امیرہ کے والد شامی فوج میں جنرل تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو بچن سے ہی فوجی تربیت دینا شروع کر دی تھی۔ امیرہ العرعور اپنے والد کے ہمراہ فوجی تربیتی کیمپوں میں جایا کرتی تھیں۔ گولا بارود پھینکنے میں وہ اپنے والد کی مدد کیا کرتی تھیں۔

جیش الحر پر اسلام پسندوں کے ممکنہ کنٹرول کے بعد اس سپاہ کی صفوں میں خواتین کی شرکت کے امکانات معدوم ہو چلے تھے، لیکن امیرہ العرعور کی بطور ڈپٹی بریگیڈ کمانڈر تقرری سے ایسے خدشات دم توڑ رہے ہیں۔ امیرہ کی اہم اسٹرٹیجک کمان پوسٹ پر تعیناتی کی پہلے بہت زیادہ مخالفت کی گئی، تاہم نوجوان خاتون کمانڈر نے ماہر پیشہ ور فوجیوں سے اپنی اہلیت کا لوہا جلد ہی منوا لیا۔

امیرہ العرعور نے حلب میں جیش الحر کی بریگیڈ کمانڈر کے طور پر اپنی تقرری کے حوالے سے کہا کہ یہ پھولوں کی سیج نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرد فوجیوں کو جب میری ملک سے محبت کا یقین ہونے لگا تو انہوں نے ایک خاتون کمانڈر کے احکامات ماننے میں ہچکچاہٹ ختم ہوتی گئی۔

ملک میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران اور ملک کے پیچیدہ سیاسی منظر نامے نے شامی عورت کے سیاسی معاملات میں کردار کو نمایاں کیا کیونکہ وہ بھی ملک میں خونریزی رکوانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی تھیں۔

اس سے قبل بھی متعدد شامی خواتین جیش الحر میں فائٹر کے طور پر شامل ہو چکی تھیں۔ ان میں ثوبیہ کنفانی نامی خاتون وطن کی محبت میں کینیڈا کی پرآئش زندگی چھوڑ کر میدان جنگ کی سختیاں جھیلنے آئیں۔ انہوں نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو میں جیش الحر کی فائٹر خواتین میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ شامی خواتین کی بڑی تعداد ملک کے مخلتف محاذوں پر جیش الحر کے فوجیوں کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔