عراقی نوجوان کی پال پریمر پر جوتا باری، یہ صدام کا 'پیغام' ہے

واقعہ برطانوی ایوان کے ایک ہال میں پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے سابق امریکی حاکم پال پریمر پر جوتا باری کی خبر میڈیا میں اس لئے نمایاں نہیں ہو پائی کیونکہ ان نادر موقع کے بارے میں عوام کو عین الیقین دلانے والی ویڈیو میسر نہ ہو سکی۔ چار برس قبل امریکی صدر جارج بش کی قیادت میں بننے والے جوتا باری کلب کے دیگر ممبران کے خلاف عوامی غیظ و غضب کو ہمیشہ کیمرے کی آنکھ محفوظ کرتی رہی ہے۔

یہ واقعہ برطانوی ایوان کے ایک ہال میں ہونے والی تقریب کے دوران پیش آیا جس کا اہتمام ہنری جیکسن تنظیم نے کیا تھا۔ اس میں سیاستدانوں، صحافیوں اور عراقی کیمونٹی کے نمائندے بڑی تعداد میں شریک تھے۔ تقریب میں موجود ایک عراقی نوجوان یاسر السامرائی نے پال پریمر سے سوال کی اجازت چاہی۔

انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا وہ پال پریمر کو دو پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ایک پیغام صدام حسین جبکہ دوسرا عراقی عوام کی جانب سے ہیں، جن پر مسٹر پریمر کو حکمرانی کا 'اعزاز' حاصل رہا ہے۔ پال پریمر ہمہ تن گوش تھے کہ اسی دوران یاسر السامرائی نے اپنا ایک جوتا ان کی جانب اچھال دیا، جو اس میز کے قریب گرا جہاں پریمر بیٹھے تھے۔ اگلے ہی لمحے یاسر کا دوسرا جوتا جو زیادہ جوش سے اچھالا گیا، پریمر نے اس جوتے کو کیچ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ان کی اگلی کو چھوتا ہوا جو اسٹیج کے پیچھے جا گرا۔

پال پریمر جوتا کیچ کرنے میں ناکامی پر ہنستے ہوئے اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔۔۔۔۔انہوں نے حملہ آور نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنا نشانہ ٹھیک کریں۔ السامرائی نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ 'تم اور تمہاری جھوٹی جمہوریت پر لعنت ۔۔۔ تم نے میرا ملک تباہ کر دیا'۔ اس دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے السامرائی کو گرفتار کر لیا اور انہیں ہتھکڑی پہنا کر ہال سے باہر لے گئے۔

السامرائی کو بعد میں اس شرط پر رہا کر دیا گیا کہ وہ آئندہ برطانوی پارلیمنٹ ہال میں ہونے والی کسی تقریب میں شرکت کے اہل نہیں ہوں گے۔ یاد رہے پال پریمر کو جارج بش نے 2003ء میں عراق کی تعمیر نو کے مرحلے کی نگرانی کے لئے ملک کا سول حکمران مقرر کیا تھا۔ وہ ایک برس عراق میں رہے۔ انہوں نے اپنے اس تجربے کے بارے میں ایک کتاب بھی تصینف کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں