بیٹی کو تشدد سے ہلاک کرنے پر اماراتی والد کو سزائے موت

مقدمے کی شریک ملزمہ کو عمر قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دبئی کی ایک فوجداری عدالت نے متحدہ عرب امارات کے ایک شہری کو اپنی دو بچیوں پر تشدد کے الزام میں ان کے والد کو سزائے موت سنائی ہے۔ شقی القلب والد کے تشدد کی وجہ سے وديمة نامی بچی جان کی بازی ہار گئی۔ مقدمے کی شریک ملزمہ اور اصل مجرم کی معشوقہ کو عدالت نے عمر قید کی سزا دی ہے۔ عدالتی فیصلے کے خلاف پانچ ماہ کے اندر اپیل کی جا سکتی ہے۔

معصوم بچیوں پر والد کے تشدد کی خبر نے یو اے ای کو معاشرتی طور پر ہلا کر رکھ دیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق وديمةاور میرا کو ان والد نے اپنی معشوقہ کے ساتھ ملکر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ دونوں مجرم بچیوں پر نہ صرف تشدد کا ارتکاب کرتے تھے بلکہ انہوں نے بے گناہ لڑکیوں کو کھانے پینے جیسی بنیادی ضروریات زندگی سے بھی محروم کر رکھا تھا۔

دبئی کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عصیام عیسی الحمیدان نے مقتولہ وديمةکے بات اور ان کی مشعوقہ کے خلاف عدالتی فیصلے کو عادلانہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیتے ہوئے فاضل عدالت پراسیکیوشن کی اس محنت کا ضرور پاس رکھے گی کہ ان بچیوں کو انصاف دلانے کے سلسلے میں کی جاتی رہی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بچیوں کے والد نے انتہائی بے رحمی کا مظاہرہ کیا۔ مقتولہ وديمة کی زندہ بچ جانے والی بہن میرا کا کہنا تھا کہ میری بہن وديمة قبر میں ہیں اور اب اللہ کے پاس سکون میں ہے۔

وديمةکی موت سے ایسے ممکنہ واقعات ختم نہیں ہو گئے۔ ان کی افسوسناک موت نے دبئی حکومت کو بچوں کے تحفظ سے متعلق خصوصی قانون بنانے پر مجبور کر دیا، جسے ودیمہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں