.

لبنان میں ایرانی صدر کا ذاتی نمائندہ دمشق ۔ بیروت شاہراہ پر قتل

ایران کی بحالی لبنان اتھارٹی کے سربراہ انجیئنر 'حسام خوش نویس'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی بحالی لبنان اتھارٹی کے سربراہ انجیئنر حسام خوش نویش بدھ اور جمعرات کی شب کو نامعلوم حملہ آوروں نے ہلاک کر دیا۔ انجینئر خوش نویس جون سن 2006ء کی لبنان ۔ بیروت میں ایرانی سفارتخانے کے مطابق مقتول انجینئر اسرائیلی جنگ سے ہونے والی تباہی کے بعد لبنان میں بحالی و تعمیر نو کی غرض سے بنائی گئی ایرانی اتھارٹی کے سربراہ اور ایرانی صدر کے ذاتی نمائندے کے طور پر لبنان میں سات برس سے مقیم تھے۔

بیروت میں ایرانی سفیر غضنفر رکن ابدی نے بتایا کہ انجیئنر حسام خوش نویش دمشق سے بیروت بین الاقوامی ایکسپریس ہائی وے کے ذریعے بیروت واپسی کر رہے تھے کہ انہیں نامعلوم دہشت گردوں نے ہلاک کر دیا۔ ایرانی سفیر آج بیروت کے علاقے بئر حسن میں انجیئنر حسام خوش نویش کی ہلاکت پر اظہار تعزیت کے لئے آنے والوں سے ملاقاتیں کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے جمعرات کی صبح بیروت میں ایک ذریعے نے بتایا کہ انجیئنر حسام خوش نویش کا جسد خاکی بیروت سے بذریعہ دبئی ایران بھجوایا جا رہا ہے جہاں انہیں سپرد خاک کیا جائے گا۔ ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بیروت واپسی پر دو لبنانی بھی ان کے ہمراہ تھے، جو مسلح دہشت گردوں کی طرف سے کی جانے والی گولیوں کی بوچھاڑ میں ہلاک ہوئے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لبنان میں مقیم مقتول کسی استعار نام پر بیروت میں رہائش پذیر تھے کیونکہ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے جتنی بھی ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کو خبر کی مزید تفصیل کے لئے کھنگالا ہے، ان میں کسی نے بھی حسام نامی شخص کی ہلاکت کا ذکر نہیں کیا۔

'تابناک' اور 'مشرق' حتی کہ 'فارس' نیوز ایجنسی سمیت اکثر خبر رساں اداروں نے بھی اپنے اخباری نشریوں میں بتایا ہے کہ مقتول منگل کے روز ایران سے دمشق پہنچا جہاں سے وہ بدھ کو بذریعہ سڑک بیروت کے لئے روانہ ہوئے۔ ان کا نام جنرل حسن شاطری بتایا گیا ہے۔ خبر رساں اداروں کی جانب سے مقتول کی جاری کردہ زیادہ تر تصاویر لبنان میں ان کے قیام کے دوران بنائی گئیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی نے تہران میں مقتول کے گھر گئے جہاں انہوں نے مقتول کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ امریکی خبر رساں ادارے نے بھی اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ مقتول کو بیروت آتے ہوئے شامی حدود میں ہی قتل کیا گیا۔