.

شامی صدر 2021ء تک بر سر اقتدار رہیں گے: سابق لبنانی وزیر

بشار الاسد کو مزید نو سال حکومت کرنے کی ''بشارت''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے ایک شام نواز سیاست دان کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد اپنے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں حکومت نہیں چھوڑیں گے بلکہ وہ 2021ء تک برسر اقتدار رہیں گے۔

لبنان کے سابق وزیر وئام وہاب نے جمعرات کو العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''بشار الاسد 2021ء کے بعد بھی شامی رجیم کے لیے رہ نما کے طور پر کام کرتے رہیں گے بالکل اسی طرح جس طرح ایران میں 1979ء کے انقلاب کے بعد سے روحانی پیشوا چلے آ رہے ہیں۔

وئام وہاب نے 2012ء میں شام، لبنان اور عراق کے درمیان معاشی اتحاد کے قیام پر زور دیا تھا۔ وہ شامی حکومت کے زبردست حامی سمجھے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ لبنان کی سیاست اور معاشرہ دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ سنی سیاست دان اور عوام شامی حزب اختلاف کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ اہل تشیع اور ان کی عسکری سیاسی تنظیم حزب اللہ صدر بشار الاسد کی حمایت کر رہے ہیں۔

درایں اثناء ترکی کی خبر رساں ایجنسی اناطولیہ نے قاہرہ سے تعلق رکھنے والی ایک اعلیٰ سیاسی شخصیت کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ بعض عرب ریاستوں نے شامی حزب اختلاف کو عرب لیگ میں شام کی نشست دینے سے اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب لندن سے شائع ہونے والے روزنامے 'الشرق الاوسط' نے بھی لکھا ہے کہ اسے شام میں پرامن انتقال اقتدار سے متعلق دستاویزات ملی ہیں۔ ان دستاویزات میں ایک سو چالیس ارکان پر مشتمل کونسل کی تشکیل کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک سو دس کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں منتخب کیا جائے گا۔ب اقی تیس کو شامی حکومت، حزب اختلاف اور مذہبی شخصیات میں سے منتخب کیا جائے گا۔

امریکا کے نئے وزیر خارجہ جان کیری نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے ملک کو صدر بشار الاسد سے متعلق اپنے تخمینوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی صدر نے ابھی تک اس بات کا ادراک نہیں کیا کہ ان کی اقتدار سے رخصتی ناگزیر ہو چکی ہے۔