.

شاہ عبداللہ نے شہزادہ خالد بن بندر کو گورنر ریاض مقرر کر دیا

شہزادہ ترکی بن عبداللہ صوبہ ریاض کے نائب گورنر مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اپنے بھتیجے شہزادہ خالد بن بندر بن عبدالعزیز کو صوبہ ریاض کا نیا گورنر مقرر کیا ہے۔

ان کے پیش رو گورنر شہزادہ سطام بن عبدالعزیز منگل کو تہتر برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ شہزادہ خالد نے اعلیٰ فوجی تربیت حاصل کر رکھی ہے اور وہ برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سیندھرسٹ سے گرایجویٹ ہیں۔ شہزادہ خالد سعودی عرب کی شاہی بری فوج کے کمانڈر ہیں۔ انھیں 2011ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔

وہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز کے پہلے پوتے ہیں جنھیں صوبہ ریاض کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ جمعرات کو جاری کردہ شاہی فرمان کے مطابق ان کا مرتبہ وزیر کے برابر ہو گا۔ شاہ عبداللہ نے شہزادہ ترکی بن عبداللہ کو صوبہ ریاض کا نائب گورنر مقرر کیا ہے۔

سعودی فرمانروا نے حال ہی میں متعدد انتظامی عہدوں پر نئے تقرر کیے ہیں۔ انھوں نے اسی ماہ کے آغاز میں ماجد عبداللہ المنیف کو سعودی عرب کی اعلیٰ اقتصادی کونسل کا سیکریٹری جنرل مقرر کیا تھا۔ وہ اس سے پہلے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم 'اوپیک' میں سعودی عرب کے گورنر تھے اور وہ وزیر تیل اور قدرتی وسائل کے وزیر کے سنئیر مشیر کے عہدے پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

خادم الحرمین الشریفین نے جنوری کے آغاز کے بعد سے مملکت میں متعدد اصلاحات نافذ کی ہیں اور انھوں نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ شوریٰ کونسل میں تیس خواتین ارکان کو شامل کیا ہے۔ انھوں نے شاہی خاندان کی نوجوان نسل کو بھی مملکت کی اہم ذمے داریاں سونپی ہیں اور دو نوجوان شہزادوں کو ملک کے تیل کی دولت سے مالا مال مشرقی صوبے اور صوبہ مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے میں اسلامی اقدار کی پاسداری کی ذمے دار مذہبی پولیس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیشن کے اختیارات میں بھی کمی کی ہے۔