اپوزیشن بشار کی رخصتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی: حجاب

شام میں ہلاکتوں کی تعداد 90 ہزار ہو گئی: کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شام کے منحرف سابق وزیر اعظم ریاض حجاب کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف صدر بشار الاسد کی رخصتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اختلاف بند کمرے سے جاری ہونے والے کسی بھی امن اقدام کو مسترد کرتی ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں شامی بحران کے حل کے لیے نئے مجوزہ منصوبے پر تبصرہ کر رہے تھے۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا حزب اختلاف کے لیڈر معاذ الخطیب کا نئے اقدام کے منظرعام پر آنے میں ہاتھ کارفرما ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر آج جمعرات کو قاہرہ میں ایک سیاسی اجلاس میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔تاہم ریاض حجاب نے ایسے کسی بھی حل کو مسترد کردیا جس میں انقلاب کے اصولوں کو ملحوظ نہ رکھا گیا ہو۔

شام کے منحرف وزیر اعظم نے کہا کہ عبوری حکومت ایک قومی ضرورت بن چکی ہے اور جونہی حزب اختلاف کے مختلف دھڑوں کے درمیان اتفاق رائے طے پاجاتا ہے تو یہ حکومت قائم کردی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ''بشار الاسد پرامن طریقے سے اقتدار نہیں چھوڑیں گے اور نہ وہ کسی سیاسی مطالبے کا جواب دیں گے''۔ انھوں نے الزام عاید کیا کہ اس وقت شام پر ایران کی حکمرانی قائم ہو چکی ہے۔

لندن سے شائع ہونے والے روزنامے الشرق الاوسط نے اقوام متحدہ کے مذکورہ منصوبے کا انکشاف کیا ہے اور اس نے لکھا ہے کہ اسے شام میں پرامن انتقال اقتدار سے متعلق دستاویزات ملی ہیں۔ ان دستاویزات میں ایک سو چالیس ارکان پر مشتمل کونسل کی تشکیل کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک سو دس کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں منتخب کیا جائے گا۔ باقی تیس کو شامی حکومت، حزب اختلاف اور مذہبی شخصیات میں سے منتخب کیا جائے گا۔

یہ مجوزہ کونسل سینیٹ کہلائے گی اور اس کے سربراہ شام کے نائب صدر ہوں گے۔ اس دستاویز کی توثیق کے بعد فوری طور پر جنگ بندی نافذ العمل ہو گی اور فوج کا تیس دن کے اندر شہری آبادی سے انخلاء ہو جائے گا۔ اس منصوبے میں قومی سیاسی اور مذہبی فرقہ واریت کے خاتمے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ سعود الفیصل کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں ہلاکتوں کی تعداد نوے ہزار کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''آج (جمعرات کی) صبح میں نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے گفتگو کی ہے۔ انھوں نے مجھے پہلی یہ بات بتائی ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق شام میں ہلاکتوں کی تعداد نوے ہزار ہو چکی ہے''۔

یہ تعداد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نیوی پلے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار سے بیس ہزار زیادہ ہے۔ انھوں نے اسی ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ستر ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔

امریکا کے نئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شام میں بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال کا موضوع ان کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون سے ملاقات کا مرکزی موضوع ہو گا۔ دونوں کے درمیان یہ ملاقات امریکی محکمہ خارجہ میں ہو رہی ہے۔

جان کیری نے بدھ کو اردن کے وزیرخارجہ ناصر جودہ سے ملاقات کی تھی اور ان سے شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ امریکا اور اردن شام کے اتحادی ملک روس کو صدر بشارالاسد پر دباؤ ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے نئے اقدامات کرسکتے ہیں۔

مسٹر جان کیری نے کہا کہ ''میں سیکرٹری جنرل سے یہ جاننا چاہوں گا کہ ہم شام میں جاری خونریزی کے خاتمے اور صدر بشارالاسد کے بغیر پرامن سیاسی انتقال اقتدار اور جمہوری مستقبل کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''گذشتہ تئیس ماہ سے جاری خانہ جنگی کے دوران شامیوں کی ایک بڑی تعداد بے گھر ہو کر پڑوسی ممالک میں مقیم ہے اور ان ممالک پر یہ بہت بڑا بوجھ پڑ چکا ہے''۔ امریکا اور اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ساڑھے سات لاکھ شامی اپنا گھربار چھوڑ کر بیرون ملک جاچکے ہیں جبکہ پچیس لاکھ ملک کے اندر ہی دربدر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں