.

جیش الحر کا الحسکہ میں شامی فوج کے اہم سرحدی یونٹ پر قبضہ

سرکاری فوج کا مخالفین کے خلاف سکڈ میزائل استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی میڈیا سینٹر کے مطابق شام اور عراق کے درمیانی علاقے الشدادی میں تعینات سرحدی یونٹ 546 کو اپوزیشن پر مشتمل شامی جنگجووں کی جیش الحر نے بشار الاسد کی فوجی کمان سے آزاد کرا لیا ہے۔ شامی جنگجووں نے یونٹ کا کئی روز تک محاصرہ کئے رکھا جس کے بعد جیش الحر کی فیصلہ کن کارروائی کی گئی۔

انقلابی جنگجووں نے الزام عاید کیا کہ سرحد پر تعینات ہونے کی وجہ سے یہ یونٹ عراق سے نوری المالکی کی فوج کو شام میں داخلے کی سہولت فراہم کرتا تھا تاکہ وہ بشار الاسد کی حامی فوج کی صفوں میں شامل ہو کر انقلابی جنگجووں کے خلاف آپریشن میں حصہ لے سکیں۔

ادھر لائیو شامی نیٹ ورک نے شام کے شمالی شہر الرقہ کے تل ابیض سرحدی قصبے پر بیلسٹک میزائل حملے کی ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو کے ساتھ ارسال کردہ نشریئے میں بتایا گیا ہے کہ حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ارد گرد جیش الحر اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

دمشق سے شامی نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ جیش الحر نے المھاجرین اور المزہ کے درمیانی علاقے قصر تشرین پر متعدد راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔ جیش الحر نے دمشق کے نواح میں فلسطینی مہاجر کیمپ میں واقع بلدیہ آفس میں واقع بشار الاسد کی حامی فوج کے کیمپ اور پولیس تھانے پر حملہ کیا ہے۔ کالونی کے اردگرد شاہراہ الثلاثین پر بھی جیش الحر اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

شامی نیٹ ورک کے مطابق جیش الحر نے برزہ کالونی پر سرکاری فوج کا حملہ پسپا کرتے ہوئے بشار الاسد کی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔