.

شامی اپوزیشن کا دوستان شام اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

سکڈ حملوں کی روس، امریکا نے مذمت نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی اپوزیشن کے قومی اتحاد نے اگلے ماہ اٹلی کے دارالحکومت روم میں فرینڈز آف سیریا کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے علاوہ ماسکو اور واشنگٹن کے دوروں کی دعوت کو بھی قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مصر کے دارالحکومت سے شام کی اپوزیشن کے قومی اتحاد کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ دوستان شام کے روم میں منعقدہ اجلاس میں شریک نہیں ہو گا۔ اسی طرح اتحاد نے روس کے دارالحکومت ماسکو اور امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے مجوزہ دوروں کی دعوت قبول کرنے سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔

قومی اتحاد کی جانب سے ان میٹنگز میں شرکت نہ کرنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ حلب میں سکڈ میزائل سے ہونے والی ہلاکتوں کی امریکا اور روس کی جانب سے مذمت نہیں کی گئی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حلب شہر اور اس کی تہذیب کو اسد حکومت مرحلہ وار اور منظم انداز میں ختم کرنے کے درپے ہے۔

شام کی اپوزیشن کے قومی اتحاد کے حوالے سے جو اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، اس میں دو مارچ کو اپوزیشن کے وزیر اعظم کے نام کا اعلان ہے۔ اس مناسبت سے شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد کا ایک خصوصی اجلاس دو مارچ کو ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں شیڈول کیا گیا ہے۔ اس کا فیصلہ مصری دارالحکومت قاہرہ میں دو روز تک جاری رہنے والے قومی اتحاد کی میٹنگ میں کیا گیا۔ اس کا امکان ہے کہ عبوری حکومت کے وزیراعظم اپنی کابینہ کے ناموں کا بھی اعلان کریں گے۔ اپوزیشن کے قومی اتحاد کی بارہ رکنی مشترکہ لیڈر شپ کے ایک رکن ولید البنی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی کابینہ میں ٹیکنو کریٹ وزراء شامل ہوں گے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ شام کی اپوزیشن کو مالی معاملات میں مشکلات کا شدید سامنا ہے۔

اُدھر تین میزائل حلب کے رہائشی علاقے میں گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 29 تک پہنچ گئی ہے۔ زخمی 150 سے زائد بتائے گئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق امدادی عمل رات میں بھی جاری ہے۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ ابھی بھی کئی لوگ ملبے تلے دبے ہیں۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور اسی باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومت مخالف مقامی افراد کے مطابق میزائل روسی ساختہ سکڈ تھے اور ان کے رہائشی علاقے میں گرنے سے 65 سے زائد مکانات تباہی کا شکار ہوئے۔

حلب شہر سے حکومت مخالف ایک شہری ابو عمر الحمصی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حلب کے بعض حصوں پر بشار الاسد کی فوج کی جانب سے جو شیلنگ کی جا رہی ہے وہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ شیلنگ حلب کے اس علاقے پر کی جا رہی ہے، جس پر حکومت مخالف باغی کنٹرول رکھتے ہیں۔

ابو عمر الحمصی نے شامی اپوزیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ اسد حکومت کی جانب سے جاری شیلنگ کے حوالے سے سخت مؤقف اپنائے۔ حلب میں ہلاکتیں دارالحکومت دمشق میں کار بم دھماکے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ المزرعہ میں ہونے والے کار بم دھماکے میں 83 افراد ہلاک ہوئے تھے۔