.

شامی صدر کے خلاف جنگ میں تیزی کے لیے اسلحے کی ترسیل

اسلامی جنگجوؤں کی پیش قدمی روکنے کے لیے بیرونی قوتوں کا اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کو مسلح کرنے کے لیے غیرملکی طاقتوں نے نئے ہتھیار بھیجے ہیں اور ان کامقصد شامی صدر کے خلاف لڑائی میں شدت لانا ہے۔

اس بات کا انکشاف اتوار کو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں حکام سے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔اخبار نے عرب اور حزب اختلاف کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''حالیہ ہفتوں کے دوران اردن کی سرحد سے شام کے جنوبی صوبہ درعا میں ٹینک شکن ہتھیاروں اور رائفلوں سمیت جدید اسلحہ اور ہتھیار بھیجے گئے ہیں''۔

شام میں غیر ملکی طاقتوں کی جانب سے اس اسلحے کی ترسیل کا بڑامقصد جنوبی علاقے میں سرکاری فوج کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجوؤں کو تقویت بہم پہنچانا ہے تاکہ شمال میں اسلامی انتہا پسند گروپوں کے اثرورسوخ کو کم کیا جاسکے۔

ایک عرب عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ''شام میں بھاری ہتھیار مہیا کرنے کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ یہ اچھے ہاتھوں میں جائیں''۔ان کے بہ قول ''آپ النصرۃ محاذ کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تو یہ کام آپ ہتھیاروں کو روک کر نہیں کرسکتے ہیں بلکہ اس کے لیے دوسرے گروپوں کے لیے اسلحی امداد میں اضافہ کرنا ہوگا''۔

جیش الحر کے ایک رابطہ کار کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شامی باغیوں کو تازہ اسلحہ مہیا کرنے کا ایک اور سبب صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف جنگ کو شمالی شام سے جنوبی علاقوں اور دارالحکومت دمشق کی جانب منتقل کرناہے۔

واضح رہے کہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف دو سال قبل عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز سے قبل النصرۃ فرنٹ کا نام بالکل غیر معروف تھا لیکن اب یہ تنظیم آئے دن بیانات جاری کرتی اور ملک کے مختلف خودکش حملوں کی ذمے داری قبول کرتی رہتی ہے جبکہ امریکا نے اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی عاید کررکھی ہے۔