.

مصری صدر کی میزبانی میں قومی مذاکرات، اپوزیشن کا بائیکاٹ

صدر مرسی کا انقلاب کے مقاصد کو پورا کرنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:


مصر کے صدر محمد مرسی نے ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے قومی مذاکرات کا انعقاد کیا ہے جس میں اسلامی جماعتوں سمیت مختلف گروپوں کے لیڈروں نے شرکت کی ہے جبکہ حکومت مخالف اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ (این ایس ایف) نے ان مذاکرات کا بائیکاٹ کیا ہے۔

صدر مرسی نے منگل کی رات مذاکرات کے آغاز کے موقع پر اپنی تقریر میں تمام جماعتوں کو ایک مرتبہ پھر ان میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ انھوں نے انقلاب کے مقاصد کو پورا کرنے کا عزم کررکھا ہے۔

ان کی میزبانی میں قومی مذاکرات کو سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جارہا ہے اور یہ صدر مرسی کے آیندہ عام انتخابات کے اعلان سے چند روز بعد منعقد کیے جارہے ہیں لیکن حزب مخالف کے اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ نے ان کے آغاز سے چندے قبل ان کا بائیکاٹ کردیا اور اس اتحاد نے 22اپریل سے چار مراحل میں ہونے والے عام انتخابات کے بھی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

فرنٹ کے ترجمان سامح آشور نے قبل ازیں صحافیوں کو قاہرہ میں بتایا کہ لبرل اور بائیں بازو کی جماعتوں کے قائدین کے اجلاس میں انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا ہے۔انھوں نے صدر مرسی کو مخاطب ہوکر کہا کہ ''وہ خود سے یا اخوان سے ہی بات چیت کریں''۔

اس اتحاد کا کہنا ہے کہ منصفانہ پولنگ کی ضمانت دینے والے قانون کی عدم موجودگی میں پارلیمان کے ایوان زیریں کے انتخابات کا انعقاد نہیں کیا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ مصری پارلیمان کے ایوان بالا نے اسی ہفتے انتخابی قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت آیندہ عام انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔

حزب اختلاف کا موقف ہے کہ اس قانون کی تیاری میں ان کی مشاورت شامل نہیں رہی ہے اور اس نے الزام عاید کیا ہے کہ نئے قانون کے تحت انتخابی حلقوں کی اس انداز میں حد بندی کی گئی ہے کہ اس سے اخوان المسلمون کو فائدہ پہنچے گالیکن ملک کی سب سے منظم اسلامی جماعت کی قیادت نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کی عوامی انقلاب کے نتیجہ میں حکومت کے خاتمے کے بعد سے مصر میں منعقدہ تمام انتخابات میں اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی جماعتوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی اور لبرل اور بائیں بازو کی جماعتیں عوام کی بھرپور حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں۔اب اگر لبرل اور بائیں بازو کی جماعتیں بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم رہتی ہیں تو اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی اور دوسری اسلامی جماعتوں کی کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔