.

مصر:مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں حسنی مبارک کا دوبارہ ٹرائل

اپیل عدالت کے صدر جج کا 13 اپریل کو سماعت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی اپیل عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک ،ان کے وزیر داخلہ حبیب العادلی اور دیگر معاونین کے خلاف معرکہ جمل کے روز مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کے لیے 13 اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔

حسنی مبارک اس وقت قاہرہ کے ایک فوجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔قاہرہ کی ایک اپیل عدالت نے جنوری میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں سنائی گئی سزاؤں کے خلاف سابق صدر ،وزیرداخلہ اور ان کے معاونین کی دائرکردہ اپیلوں پر دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا تھا۔

یادرہے کہ فروری 2011ء میں سابق صدر کے خلاف قاہرہ کے میدان التحریر میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز نے گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہو کرمظاہرین کو تشدد کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔عدالت نے مظاہرین کی ہلاکتوں کے اس مقدمے میں پچیس سابق عہدے داروں کو قصوروار قرار دیا تھا۔ان میں مبارک دور کے پارلیمان کے اسپیکر صفوت الشریف ،شوریٰ کونسل کے سابق صدر ماجدالشربینی ،سابق حکمراں جماعت کے سنئیر عہدے دار ،سابق وزراء اور کاروباری شخصیات شامل تھیں۔

قاہرہ کی ایک فوجداری عدالت نے 2جون 2012ء کو حسنی مبارک ،سابق وزیرداخلہ کو ساڑھے آٹھ سو سے زیادہ مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں لیکن اس مقدمے میں ماخوذ چھے سابق سکیورٹی عہدے داروں کو بری کردیا تھا۔اس پر عوام کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔

جنوری میں اپیل عدالت کے جج احمد علی عبدالرحمان نے حسنی مبارک ،حبیب العادلی اور استغاثہ کی اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کے لیے اپیل منظور کرلی تھی اور قاہرہ کی فوجداری عدالت کے سابقہ حکم کو منسوخ کردیا تھا۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کی اطلاع کے مطابق قاہرہ کی اپیل عدالت کے صدر جج سمیر ابوالمعطی نے 13 اپریل کو مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے اور سابق صدر کے دونوں فرزندوں علاء اور جمال مبارک اور ایک کاروباری شخصیت حسین سالم کو بھی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ان کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔حسین سالم اس وقت اسپین میں رہ رہے ہیں۔ حسنی مبارک اور ان کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات میں الگ سے مقدمہ چلایا جارہا ہے۔