.

غلط دولت بتانے پر سعودی شہزادہ 'فوربز' پر نالاں

'میگزین نے میری شہرت کو داغدار کیا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ارب پتی سعودی شہزادے الولید بن طلال اور ان کی کمپنی کنگڈم ہولڈنگ نے دنیا کے امیر ترین افراد کے انڈیکس جاری کرنے والے مؤقر جریدے 'فوربز' کے ساتھ معاملات ختم کر دیئے ہیں۔ ان کے ذاتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں مجلے کی جانب سے ان کی دولت کے تخمینے میں فاش غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

'فوربز' کے مطابق 20 ارب ڈالر مالیت کی جائیداد کے ساتھ سعودی شہزادے کو دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں 26 ویں نمبر پر رکھا تھا۔ سعودی شہزادے کے مطابق ان کی دولت کا غلط تخمینہ لگایا گیا جس کی وجہ سے ان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ اس کوشش کے ذریعے صاحب ثروت عربوں کو گزند پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

داریں اثنا بلومبرگ کی طرف سے دنیا کے امیر ترین افراد کے چار مارچ کو جاری ہونے والے ایڈیکس میں الولید بن طلال کو دنیا کا سولہواں امیر ترین فرد قرار دیا گیا تھا۔ بلومبرگ کے مطابق انہوں نے یہ مقام اٹھائیس ارب ڈالرز مالیت کی جائیداد کے بل بوتے پر حاصل کیا

شہزادہ الولید نے ذاتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا کہ وہ بلومبرگ کے زیر انتظام دینا کے امیر ترین افراد کے انڈیکس تیاری میں تعاون کریں گے کیونکہ یہ ادارہ غیر جانبدار اور منصفانہ طریقے سے اپنا کام کر رہا ہے۔

بعض اطلاعات میں سعودی شہزادے کی دولت کا تخمینہ 29.6 ارب ڈالرز لگایا گیا ہے، جس کی روشنی میں وہ دنیا کے دس امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہونے کے اہل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ ولید بن طلال نے یہ اقدام اس بنا پر اٹھایا کہ ان کی دولت کا تخمینہ گھٹا کر اس لئے لگایا گیا تاکہ مشرق وسطی میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

الولید بن طلال کے ذاتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے فوربز نے ان کی دولت کا تخمینہ لگانے میں جان بوجھ کر غلطی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ معروف بزنس جریدے نے مشرق وسطی کی سب سے اسٹاک مارکیٹ سعودی میں حصص کی قیمیتوں کا غلط اندازہ لگایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افواہوں کی روشنی میں فوربز کا یہ دعوی حیران کن ہے کہ سعودی عرب میں حصص کے ساتھ کھلواڑ قومی مشغلہ ہے کیونکہ وہاں جوا خانے نہیں ہیں۔