.

اسرائیلی فوج لاپتا فلسطینی بکری کی تلاش میں سرگرداں

بکری اور میمنوں کی پراسرار گمشدگی معما بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:


اسرائیلی فوج اس وقت حالت جنگ میں ہے لیکن اس مرتبہ وہ فلسطینی مزاحمت کاروں ،مظاہرین یا لوگوں کی تلاش میں نہیں بلکہ ایک لاپتا بکری کی تلاش میں ہے۔

اسرائیلی فوج نے فروری کے وسط میں ایک فلسطینی گاؤں المجاز میں رات کو چھاپہ مار کارروائی کی تھی اور اس دوران مذکورہ بکری اور اس کے دونوں میمنے لاپتا ہوگئے تھے۔

اسرائیلی کارکنان اور فلسطینیوں نے مل کر مقامی ضلعی رابطہ افسر سے اس بکری کے مالک کی جانب سے رابطہ کیا ہے تاکہ لاپتا بکری کا سراغ لگایا جاسکے۔

عرب نیوز ویب سائٹ البوابہ کی اطلاع کے مطابق ڈی سی او کے ایک افسر نے شدید دباؤ کے بعد اعتراف کیا ہے کہ اس بکری کو اسرائیلی فوجی پکڑ کراپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اس کے بعد ڈی سی او کے دفتر نے دعویٰ کیا کہ بکری کو اس کے مالک کو واپس کردیا گیا ہے لیکن مالک کا یہ کہنا ہے کہ اس کو بکری اور اس کے دونوں بچے واپس نہیں ملے ہیں۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے حال ہی میں عبرانی روزنامہ ہارٹز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ان دعووں سے اس پورے معاملے کے ساتھ ہی نا انصافی کی گئی ہے''۔

یہ ناانصافی کیا ہوئی؟ اس حوالے سے ان ترجمان کا یہ فرمانا ہے کہ ''اس کیس میں ایک گڈریا فائرنگ زون کے قریبی علاقے میں داخل ہوا تھا۔اس کا مقصد اسلحہ چرانا تھا۔ان جانوروں کو چرایا نہیں گیا تھا بلکہ انھیں فوجی اپنے ساتھ لےآئے تھے تاکہ انھیں بعد میں ان کے مالک کو واپس کیا جاسکے''۔

لیکن اس بکری کے فلسطینی مالک ابھی تک یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ابھی تک اس کے پاس نہیں پہنچی ہے ۔وہ مبینہ طور پر لاپتا ہے۔اس سے یہ تمام معاملہ اور بھی پراسرار ہوگیا ہے بلکہ معما بن گیا ہے کہ بکری اور اس کے دونوں بچے کہاں چلے گئے ہیں۔چنانچہ بکری اور اس کے دونوں میمنوں کی تلاش ہنوزجاری ہے۔