.

شامی صدر کی خاتون مشیر کی شام سے دبئی 'فرار' کی خبریں

بثنیہ شعبان بیروت کے راستے دبئی پہنچیں: میڈیا رپورٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی صدر بشار الاسد کی مشیر بثنیہ شعبان ملک چھوڑ کر دبئی میں موجود ہیں، تاہم ان اطلاعات کی کسی غیر جانبدار آزاد ذریعے سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

لبنانی اخبار 'اللواء' کے مطابق بثنیہ شعبان کو بیروت کے رفیق حریری ائرپورٹ پر ایک گھنٹے تک روکے رکھا گیا، جس کے بعد انہیں دبئی کے لئے پرواز کی اجازت دے دی گئی۔

اخبار کے مطابق: "لبنان کے سیکیورٹی حکام نے ثنیہ شعبان کی بیروت آمد پر انہیں اگلی منزل کے سفر پر روانہ ہونے سے روک لیا۔ حکام اس امر کی تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ شامی حکومت کی اعلی عہدیدار کا کسی طور پر سابق لبنانی وزیر میشل سماحہ اور جنرل علی المملوک کے مقدمات میں مطلوب تو نہیں ہیں۔"

ادھر شام کے سرکردہ اپوزیشن لیڈر ہیثم المالح نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ "یکے بعد دیگرے منظر عام پر آنے والی خبروں کے مطابق بثنیہ شعبان کی شامی حکومت سے علاحدگی کی خبریں آتی رہی ہیں۔" مسٹر مالح نے اپنے ٹیوٹر پیغام میں کہا ہے کہ "اگر یہ خبریں درست ہیں تو میں یہی کہ سکتا ہوں کہ جھوٹے نعروں کی گونج میں عوام کا خون بہانے والی مجرم خاتون کا ڈوبتے ہوئے اسدی جہاز فرار ہے۔"

ڈاکٹر بثنیہ شعبان ایوان صدر کی مشیر کے طور پر خدمات سرانجام دیتی رہیں ہیں۔ حالیہ صدارتی فرمان کے مطابق وہ سمندر پار شامیوں کے امور کی وزیر کے طور پر فرائض انجام دے چکی ہیں۔

ساٹھ سالہ بثینہ سن 2002ء سے شامی وزارت خارجہ کے ایکسٹرنل پبلیسٹی ونگ کی ڈائریکٹر چلی آ رہی تھیں۔ وہ دمشق یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں شاعری اور تقابلی لٹریچر پڑھاتی رہی ہیں۔ وہ اسی شعبے میں بین الاقوامی لٹریچر بھی پڑھاتی رہی ہیں۔