.

اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والا فلسطینی قید غزہ منتقل

مغربی کنارے کے مکین کی 10 سال کے لیے جبری غزہ بے دخلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکام نے جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے چارفلسطینی قیدیوں میں سے ایک کو اس کے آبائی علاقے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھیجنے کے بجائے غزہ میں بے دخل کردیا ہے۔

اسرائیلی حکام نے ایمن شراونہ کو امریکی صدر براک اوباما کے دورۂ اسرائیل سے تین روز قبل اتوار کو رہا کرکے غزہ کی پٹی منتقل کردیا ہے تاکہ امریکی صدر کے دورے کے موقع پران کی کوئی ناخوشگوار خبر میڈیا کی زینت نہ بنے۔

حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے ایک بیان میں کہا کہ ''قابض اسرائیل کی جانب سے قیدی ایمن شراونہ کی ان کے آبائی علاقے سے بے دخلی ظلم وجبر کی ایک مثال ہے۔حماس فلسطینیوں کی بے دخلی کی اس پالیسی کومسترد کرتی ہے۔ تاہم غزہ ایمن شراونہ اور اپنی پوری فلسطینی قوم کو خوش آمدید کہتا ہے''۔

سینتیس سالہ ایمن شراونہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ اسرائیل کے ساتھ رہائی کے لیے طے پائے اس جبریہ معاہدے کے تحت دس سال تک غزہ میں مقیم رہیں گے۔واضح رہے کہ اس فلسطینی نوجوان کو 2002ء میں اسرائیلی قبضے کے خلاف انتفاضہ تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔انھیں ایک اسرائیلی عدالت نے اٹھائیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

تاہم 2011ء میں غزہ میں قید اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کے لیے اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پائے قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کے تحت انھیں رہا کردیا گیا تھا لیکن بعد میں ایک مرتبہ پھر اسرائیلی حکام نے انھیں مغربی کنارے سے گرفتار کر لیا تھا۔

ان کے بھائی جہاد شراونہ کا کہنا تھا کہ وہ اس بے دخلی کے معاہدے کو مسترد کرتے ہیں لیکن ان کے لیے اس کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ایمن شراونہ کو گذشتہ سال دوبارہ گرفتاری کے بعد سے کسی فرد جرم کے بغیر جیل میں قید رکھا جارہا تھا۔

اپنی غیرقانونی حراست کے خلاف انھوں نے تین اور فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مل کر بھوک ہڑتال کردی تھی۔گذشتہ ماہ ان میں سے دو کو اسرائیلی حکام نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ انھیں ان کی موجودہ حراستی مدت ختم ہونے کے بعد رہا کردیا جائے گا۔اس پر انھوں نے بھوک ہڑتال ختم کردی تھی۔

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ صہیونی حکام انسانیت سوز سلوک کرتے ہیں۔گذشتہ ماہ اسرائیلی حکام نے ایک جیل میں قید فلسطینی قیدی عرفات جرادت کو تشدد کا نشانہ کر شہید کردیا تھا۔ان کی جیل میں ناگہانی موت کے خلاف دوسرے فلسطینی قیدیوں نے احتجاج کیا تھا۔ان کے علاوہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں بھی فلسطینی قیدیوں نے اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔قابض اسرائیلی فوج نے ایک مظاہرے کے شرکاء فلسطینیوں پر فائرنگ کرکے چھے افراد کو زخمی کر دیا تھا۔