.

شامی حزب اختلاف کا عبوری وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اجلاس

باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں حکومت کے لیےاقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شہر استنبول میں شامی حزب اختلاف کے سب سے بڑے گروپ کا اجلاس جاری ہے جس میں عبوری حکومت کے وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔

شامی باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں عبوری حکومت کے سربراہ کے انتخاب کے لیے بارہ امیدوار سامنے آئے ہیں۔ان میں زیادہ تر ٹیکنو کریٹس ہیں۔البتہ دو اس وقت شام ہی میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے کنٹرول والے علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

شامی قومی اتحاد کے ارکان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتے کہ ان کے درمیان عبوری وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کوئی اتفاق رائے ہوجائے گا۔اس سے پہلے وہ اپنے متعدد اجلاسوں میں نئے وزیراعظم کے نام اور عبوری حکومت کے قیام پر اتفاق رائے میں ناکام رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق شامی قومی اتحاد کے تہتر ارکان آج یا پھر کل منگل کو رائے شماری کے ذریعے عبوری وزیراعظم کا انتخاب کریں گے۔اب تک سامنے آنے والے امیدواروں میں شام کے سابق وزیرزراعت ،ایک ماہر معیشت اور مواصلات کے ایگزیکٹو کو دوسرے امیدواروں پرفوقیت حاصل ہے۔عبوری وزیراعظم صدر بشارالاسد کی فوج سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں اپنی حکومت قائم کرے گا۔

شامی حزب اختلاف اور باغی جنگجوؤں کا پہلا وزیراعظم اپنے انتخاب کے بعد اپنی نئی کابینہ تشکیل دے گا اور شامی قومی اتحاد ایک مرتبہ پھر رائے شماری کے ذریعے نئی کابینہ کی منظوری دے گا۔اگر یہ حکومت قائم ہوجاتی ہے تو اس سے شامی بحران کے جلد خاتمے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

البتہ اس سے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ بحران کے حل کے لیے مذاکرات کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ شام میں گذشتہ دوسال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ستر ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور گیارہ لاکھ سے زیادہ شامی اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔