.

اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے امریکا کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

اسرائیل کا ساتھ امریکا کے قومی سکیورٹی مفاد میں ہے: صدراوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر براک اوباما نے اسرائیل کے دورے کے آغاز پر صہیونی ریاست کی سکیورٹی کے لیے امریکا کی غیرمتزلزل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

امریکی صدر نے تل ابیب کے ہوائی اڈے پر اپنے اعزاز میں استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ دورہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے غیرمتزلزل امریکی حمایت کے عزم کے اعادے اور اسرائیلی عوام اور ان کے ہمسایوں سے براہ راست گفتگو کے لیے ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''میں بڑے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا اتحاد ہمیشہ کے لیے دائمی ہے۔اسرائیل کی حمایت امریکا کے قومی سکیورٹی مفادات میں ہے۔مقدس سرزمین میں امن قائم ہونا چاہیے۔ہم اسرائیل کو اس کے ہمسایوں کے ساتھ پرامن دیکھنا چاہتے ہیں''۔

بن گورین ائیرپورٹ پر منعقدہ استقبالیہ تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیل کا ساتھ دینے اور اس کے وجود کے دفاع کی حمایت پر صدر اوباما کا شکریہ ادا کیا۔اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے بھی اپنے امریکی ہم منصب کا غیرمتزلزل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

براک اوباما نے بدھ کو تل ابیب پہنچنے سے قبل اسرائیلی ٹیلی ویژن کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ''اس دورے میں میرا مقصد سننا ہے۔میں نیتن یاہو،سلام فیاض ،ابو مازن (محمودعباس) سے ملنا چاہتا ہوں اور ان سے ان کی حکمت عملی کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں کہ ان کا وژن کیا ہے،وہ کیا سوچ رہے ہیں''۔

براک اوباما کا صدر امریکا کی حیثیت سے اسرائیل کا یہ پہلا اور دوسری مرتبہ منصب صدارت سنبھالنے کے بعد بھی ان کا یہ پہلا غیرملکی دورہ ہے۔وہ ایسے وقت میں اسرائیل پہنچے ہیں جب وہاں بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں نئی اسرائیلی حکومت قائم ہوچکی ہے۔ان کے ساتھ وزیر خارجہ جان کیری بھی آئے ہیں۔وہ اسرائیلی وزیراعظم سے دوطرفہ تعلقات کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام کے ایشو پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔